بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

حکومت کا غربت کم کیلئے462ارب خرچ کرنے کا دعویٰ لیکن حقیقت کیا ہے،رپورٹ میں چشم کشا انکشافات

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے تخفیف غربت کے منصوبوں کیلیے462 ارب 70کروڑ روپے خرچ کرنے کادعوی توکیا ہے لیکن اس میں سے تین چوتھائی رقم تنخواہ ادائیگی سمیت غیرترقیاتی اخراجات پرخرچ ہوگئی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی تخفیف غربت اسٹریٹجی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں462 ارب 70کروڑ

روپےخرچ کیے جو پچھلے مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ساڑھے10فیصد یا 44ارب روپے زیادہ ہیں تاہم 354ارب 40کروڑروپے کی خطیررقم تنخواہوں اوردیگر واجبات وذمے داریوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ رقم سڑکوں کی تعمیر،ماحولیاتی تحفظ،تعلیم، صحت،زراعت،دیہی ترقی،امن وامان ،نظام انصاف اور سبسڈی کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئی ہے۔ ان تمام مدوں میں اخراجات کوجمع کرکے تخفیف غربت کے اخراجات قرار دیا گیا ہے۔وفاقی اورچاروں صوبائی حکومتوں نے پہلی سہ ماہی کے دوران 25ارب 20کروڑروپے سبسڈی دینے کی مدمیں خرچ کیے جو پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی نسبت 30.7 فیصد زیادہ ہے۔غریبوں کیلیے مجموعی اخراجات کی مدمیں ان اسبسڈیزکاحصہ محض 5.4 فیصد تھا۔مخصوص اہداف یا لوگوں تک سبسڈی دینے اوربینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 24 ارب روپے دیے گئے۔وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے غریبوں کیلئے رقوم خرچ کرنے میں اضافے کے باوجود عملی طور پر صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی ،ملک میں غربت اورعدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اورحکومت غربت کی زندگی گزارنے والوں کی اصل تعداد کا پتہ چلانے کیلیے تیارنظر نہیں آتی۔سوشل سیکیورٹی اور بہبود پر7ارب 90کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 9 ارب 70کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ سوشل

سیکیورٹی پرخرچ رقوم میں ساڑھے 18 فیصدکمی کی وجہ سندھ حکومت کی جانب سے کم رقوم خرچ کرنا ہے ۔وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے تعلیم پر160ارب64 کروڑخرچ کیے جوپچھلے مالی سال کی اسی مدت میں خرچ رقم سے17.2 فیصد 23ارب60 کروڑ روپے زیادہ ہے ،ان میں سے 92.5 فیصداخراجات جاریہ تھے ۔غریبوں

کیلیے اخراجات کی مد میں شعبہ صحت پرخرچ رقوم 10.7 فیصدسے بڑھ کر ساڑھے 12فیصد ہوگئیں۔علاوہ ازیں ساتویں این ایف سی ایوارڈکے تحت صوبوں کو صحت اورتعلیم کی مد میں کئی سو ارب روپے اضافی ملنے کے باوجود ان دونوں شعبوں میں سماجی اشاریے روز بروزگرنے پرتشویش کااظہارکیا جاتا رہا ہے جبکہ اس ضمن میں تجویز دی جا رہی ہے کہ صوبوں کواضافی وسائل کی منتقلی اورسماجی اشاریوں کی بہتری سے جوڑا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…