پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے ،تمام سرکاری سکولوں کو اردو میڈیم کرنے کی درخواست ،فیصلہ محفوظ

datetime 27  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیو زڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور تمام سرکاری سکولوں کو اردو میڈیم کرنے کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار ڈاکٹرمحمد شریف نظامی کے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے ملک میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ،غیر ملکی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے قوم کی ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا کی تمام اقوام نے اپنی قومی زبان کو رائج کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل دوسو اکاون کے تحت آئین پاکستان کے نفاذ کے پندرہ برس بعد سرکاری سطح پر اردو زبان کو مکمل طور پر رائج کیا جائے لیکن سال انیس سو اٹھاسی کے بعد سے اب تک اس آئینی شرط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مزید موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب نے حکومت نے سال 2010ء میں تمام سرکاری سکولوں کو انگلش میڈیم کر دیا ہے اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے اور تمام انگلش میڈیم سکولوں کو اردو میڈیم کرنے کاحکم دیا جائے۔ دوران سماعت وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس کمیٹی کی سفارشات پر بتدریج عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا حکم دے رکھا ہے مگر انگلش میڈیم سکولوں کو اردو میڈیم کرنے کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے رکھا۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور تمام سرکاری سکولوں کو اردو میڈیم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…