عدالتی فیصلے کیخلاف بولنا میرا حق ہے، نواز شریف

21  مارچ‬‮  2018

اسلام آباد(آئی این پی )مسلم لیگ (ن) کے قائد اورسابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف بولنا میرا اور میری پارٹی کا حق ہے، میرے خلاف بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لے کر فیصلہ لکھا گیا ، عوام کی توہین ہوئی ہے وہ اپنی توہین کہاں فائل کریں، اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں،28جولائی کے عدالتی فیصلے کے باعث ڈالر116روپے پر چلا گیا۔

عمران خان نے اقبال جرم کیا پھر بھی صادق اور امین ٹھہرے، عمران خان غلطی تسلیم کررہے تھے لیکن عدالت نے کہا کہ اس طرف نہ جائیں، سب پر باتیں کرنے والوں کا اپنا کیس سامنے آگیا ،اس نے کروڑوں روپے کی زمین چھپائی۔ وہ بدھ کو یہاںاسلام آباد کی احتساب عدالت کے اندر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے ۔اس دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں اداروں کی عزت کرنے والا انسان ہوں لیکن میرے خلاف جو فیصلہ آیا وہ میری اور قوم کی نظرمیں ٹھیک نہیں تھا۔ میرے خلاف بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لے کر فیصلہ لکھا گیا۔ اب میرے خلاف توہین عدالت کیس میں فل بینچ بنادیا گیا ہے۔ عوام کی توہین ہوئی ہے وہ اپنی توہین کہاں فائل کریں۔نوازشریف نے کہا کہ اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں۔ گزشتہ روز جج صاحب کے ریمارکس سب کے سامنے ہیں، ان کے ریمارکس معمولی نہیں ،جسٹس فائز نے کہا کہ کیس پاناما کا تھا اور نااہلی اقامہ پر کی گئی، جنہوں نے مجھے اقامے پر نکالا انہوں نے نیب ریفرنس بھی بناکر بھیجے۔ فیصلے دینے والوں کو سوچنا چاہئے کہ قوم کو ان کے فیصلے تسلیم نہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان نے اقبال جرم کیا پھر بھی صادق اور امین ٹھہرے، عمران خان غلطی تسلیم کررہے تھے لیکن عدالت نے کہا کہ اس طرف نہ جائیں، سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل کیا لیکن اس پر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنائی، سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کے خلاف نیب ریفرنسز دائر کرنے کا بھی نہیں کہا یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا۔

نواز شریف نے شیخ رشید کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو سب پر باتیں کررہے تھے ان کا اپنا کیس سامنے آگیا ہے،انہوں نے کروڑوں روپے کی زمین چھپائی۔انہوں نے کہاکہ شیخ رشید کے پلاٹس کی قیمت 5کروڑ بتائی جارہی ہے بڑے بڑے نامور وکلاء نے کہا کہ کیسز کمزور ہیں اور فیصلہ بھی کمزور ہے۔ کمزور فیصلوں پر تنقید نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا۔ ایسے فیصلے کروڑوں عوام کی بھی توہین ہے۔

عوام کی بھی توہین ہو تو ان کے پاس بھی فورم ہونا چاہئے جہاں وہ توہین فائل کریں۔ 28جولائی کو پاکستان کے عوام کی توہین ہوئی اسی طرح کے فیصلے عدلیہ کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اس فیصلے کے انتشار کی وجہ سے آج ڈالر 116 روپے پر چلا گیا۔ ہمارے زمانے میں چار سال ڈالر ایک جگہ پر قائم رہا ایسے فیصلے ابتری‘ مشکلوں اور مصائب کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے فیصلوں سے ہمارا ملک دنیا میں بدنام اور تنہا ہورہا ہے۔ ہمارے زمانے میں پاکستان عزت کا مقام حاصل کررہا تھا آج پاکستان کا کوئی حال نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



گوہر اعجاز سے سیکھیں


پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…