پاکستان اور آئی ایم ایف بڑے اقدام پرمتفق ہوگئے، آئی ایم ایف نے اعلامیہ جاری کر دیا 

  اتوار‬‮ 10 فروری‬‮ 2019  |  21:32

دبئی (این این آئی)پاکستا ن اور آئی ایم ایف حکام نے دونوں طرف سے اصلاحات اور پالیسی ترجیحات میں مشترکہ تعاون جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی اور آئی ایم ایف حکام نئے پروگرام کیلئے بات چیت جاری رکھیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی سربراہ ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ نے معاشی استحکام کیلئے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔اتوار کو یہاں وزیراعظم عمران خان سے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ نے ملاقات کی ۔ دبئی میں ہونے والی عالمی حکومتوں

کے اجلاس کے موقع پر ہوئی،وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے سپورٹ کی تعریف کی۔ ملاقات میں انھوں نے قومی تعمیر کیلئے اپنی سوچ سے بھی آئی ایم ایف سربراہ کو آگاہ کیا۔وزیراعظم نے اسٹکچرل اور حکومتی اصلاحات اور سماجی شعبے کی بہتری کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے معاشی استحکام کیلئے حکومت کے اقدامات کی تعریف کی ۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔اجلاس میں دونوں طرف سے اصلاحات اور پالیسی ترجیحات میں مشترکہ تعاون جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی اور آئی ایم ایف حکام نئے پروگرام کیلئے بات چیت جاری رکھیں گے۔دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کے اعلامیے کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اچھی اور تعمیری ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں حالیہ معاشی ترقی اور مستقبل کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جاری آئی ایم ایف پروگرام پر بات چیت کے تناظر میں گفتگو ہوئی جس میں ’میں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد کیلئے تیار ہے۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے مطابق فیصلہ کن پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کے مضبوط پیکج سے پاکستانی معیشت میں استحکام آئیگا، پاکستان کی حکومت درست سمت معاشی اقدامات کر رہی ہے اور معیشت کی بہتری کیلئے پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔عالمی مالیاتی ادارے کے اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف معاشی اصلاحات پر متفق ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزراء اور دیگر حکام کے ساتھ ایک روزہ دورے پر دبئی گئے تھے جہاں انہوں نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں بھی شرکت کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں