مصر :داعش کے65 جنگجوؤں کو دہشت گردی سیل قائم کرنے پر جیل کی سزائیں

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  12:10

قاہرہ(این این آئی)مصر کی ایک عدالت نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے 65 مشتبہ ارکان کو دہشت گردی کا سیل تشکیل دینے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال سے عمرقید تک جیل کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس مبینہ سیل کے مصر کے بالائی علاقوں میں ارکان تھے اور وہ اپنے ’’ امیر ‘‘ مصطفیٰ احمد عبدالعال کے زیر قیادت کام کررہے تھے۔ایک عدالتی عہدے دار کے مطابق ان جنگجوؤں پر 2017ء میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ انھوں نے بالائی مصر میں دہشت گردی کا سیل قائم کیا تھا اورا س کے ارکان

نے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کررکھی تھی۔عدالت نے 18مدعا علیہان کو عمر قید ( 25 سال) اور 41 مجرموں کو 15، 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔اس نے اس سیل میں شامل چھے کم سن لڑکوں کو پانچ پانچ سال قید کا حکم دیا ہے اور دو مشتبہ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔تمام سزایافتگان عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں داعش کی مقامی شاخ کے جنگجو 2014ء سے سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔انھوں نے شمالی سیناء کے علاوہ ملک کے دوسرے بڑے شہروں اور قصبوں میں تباہ کن بم حملے کیے ہیں جن میں سیکڑوں شہری اور سکیورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں ۔مصری فوج فروری سے جزیرہ نما شمالی سیناء میں سیناء 2018ء کے نام سے مزاحمت کاروں کا قلع قمع کرنے کے لیے کارروائی کررہی ہے۔ فوج نے اکتوبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کارروائی میں ساڑھے چار سو سے زیادہ انتہا پسند ہلاک ہوچکے ہیں اور 30 فوجی مارے گئے ۔قبل ازیں مصر کی ایک فوجی عدالت نے بدھ کو داعش کے آٹھ ارکان کو 2016ء میں فوج پر تباہ کن حملے کے جرم میں قصور وار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں