جان لیوا گیم ’’بلیو وہیل‘‘ کھیلنے والا پاکستانی لڑکا منظر عام پر آ گیا، لرزہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2017  |  21:43

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بلیو وہیل جو ایک قاتل گیم ہے اب پاکستانی بچوں پر اثر انداز ہونے لگی، تفصیلات کے مطابق کئی نوجوانوں کی قاتل گیم بلیو وہیل کی پاکستان آمد کی افواہیں گردش میں تھیں اور سوشل میڈیا پر وارننگ دی جا رہی تھی کہ اس گیم سے دور رہیں نہ صرف خود دور رہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس گیم سے دور رکھیں، کیونکہ یہ گیم ایسی ہے جسے کھیلنے والا آخر میں خود کشی کر لیتا ہے، یہ آگاہی مہم ابھی جاری ہے کہ ایک پاکستانی بچہ اس گیم کا شکار ہو گیا،اس بچے کے

اس قاتل گیم کھیلنے سے اس کے والدین کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ اس پاکستانی لڑکے کے بارے میں انکشاف فیس بک پر کراچی والے نامی ایک پیج پر کیا گیا ہے جنہوں نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں تفصیلات اور تصاویر ان کے ایک پیج ممبر نے بھیجی ہیں، اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ میرے ایک دوست نے یہ گیم ڈاؤن لوڈ کرکے کھیلی، اسے ایک واٹس ایپ گروپ میں گیم کے بارے میں بتایا گیا تھا اور اس لڑکے نے بلیڈ اور دوسرے طریقوں سے اپنی جلد کو رگڑ کر خود کو کئی مرتبہ نقصان پہنچایا۔ یہ لڑکا اب تک بلیو وہیل کے 9 ٹاسک مکمل کر چکا ہے مگر اس سے پہلے اس کے گھر والوں کو کچھ پتہ نہیں تھا، بلیو وہیل گیم کوئی مذاق نہیں ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے مضبوط دماغ کے مالک ہیں یہ گیم آپ کو کنٹرول کر لیتی ہے۔ اس لڑکے کے دوست نے کہا کہ حد سے زیادہ خود اعتماد ہو کر اس گیم کو مت کھیلیں اور اس گیم کے قریب بھی نہ جائیں۔ اس لڑکے کے دوست نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ مجھے امید ہے کہ میرے دوست کے گھر والے اب اس پر زیادہ توجہ دیں گے اور اسے پریشانی اور دباؤ سے باہر نکالنے میں اس کی مدد کریں گے۔ دریں اثناء چند ہفتوں سے ایک وڈیو گیم بلیو وہیل کو بہت ہی خطرناک کرکے پیش کیا جا رہا تھا اور بلیو وہیل کے متعلق طرح طرح کی خبریں گردش میں تھیں،بعض خبریں تو ایسی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں، واضح رہے کہ بلیو وہیل کی وجہ سے پوری دنیا میں اموات کی خبروں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن بلیو وہیل کے متعلق خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس گیم سے متعلق سب سے پہلے روسی نشریاتی ادارے ’’نووایا گزیتا‘‘ نے ایک کالم شائع کیا جس میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک وڈیو گیم کی وجہ سے روس بھر میں 130 کم عمر بچوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ بلیو وہیل سے متعلق اسی ادارے نے مئی 2016 میں پہلی بار اعداد و شمار کے ساتھ فیچر شائع کیا۔اس کے کچھ ہی دنوں بعد آر ٹی، ٹی وی چینل جو کہ روس کا معروف نشریاتی ادارہ ہے نے مئی 2016ء میں اس گیم سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ نشر کی، اس چینل کی خبر میں بلیو وہیل چیلنج گیم سے متعلق بتایا گیا کہ اس گیم کا حصہ بننے والے افراد کو مختلف ٹاسک دیے جاتے ہیں، ان ٹاسک میں خوفناک وڈیوز دیکھنا، خوفناک کارنامے سرانجام دینا، اپنے جسم کے کسی حصے کو کاٹنا وغیرہ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ بلیو وہیل چیلنج گیم کے انٹرنیٹ پر لنک موجود نہیں ہوتے، اسے سیکرٹ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے اس کے علاوہ اس سے عموماً وہ بچے متاثر ہوتے ہیں جو پختہ ذہن نہیں رکھتے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں