afghanistan

افغانستان مشتعل،پاکستانی حساس ادارے پر سنگین الزامات عائد،نیاتنازعہ کھڑا ہوگیا

  بدھ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2017  |  23:49
کابل(آئی این پی)افغان صوبہ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبدالرازق نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔بدھ کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق جنوبی صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ روز گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔انکا کہنا تھاکہ حقانی نیٹ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی صوبائی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے طویل مدت سے کام کررہے

(خبر جا ری ہے)

ہیں۔مزید وضاحت کیے بغیر انکا کہنا تھاکہ حکومتی عمارتوں پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانستان کے درالحکومت اور جنوبی صوبے قندھار میں ہونے والے بم دھماکوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور متحدہ عرب امارات کے سفیر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔قندھار میں گورنر ہاؤ س کے کمپانڈ میں ہونے والے بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک ہوئے جس میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتی اہلکاربھی شامل ہیں۔قبل ازیں افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کے قریب یکے بعد دیگرے ہونے والے 2 دھماکوں میں 30سے زائد افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوگئے۔ کابل میں ہونے والے دھماکے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں ہونے والے دھماکے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوئے،ہلمند میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کابل(آئی این پی)افغان صوبہ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبدالرازق نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔بدھ کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق جنوبی صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ روز گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔انکا کہنا تھاکہ حقانی نیٹ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی صوبائی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے طویل مدت سے کام کررہے ہیں۔

مزید وضاحت کیے بغیر انکا کہنا تھاکہ حکومتی عمارتوں پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانستان کے درالحکومت اور جنوبی صوبے قندھار میں ہونے والے بم دھماکوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور متحدہ عرب امارات کے سفیر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔قندھار میں گورنر ہاؤ س کے کمپانڈ میں ہونے والے بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک ہوئے جس میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتی اہلکاربھی شامل ہیں۔قبل ازیں افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کے قریب یکے بعد دیگرے ہونے والے 2 دھماکوں میں 30سے زائد افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوگئے۔ کابل میں ہونے والے دھماکے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں ہونے والے دھماکے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوئے،ہلمند میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔