مالی سال 2017-18ء میں یوریا کی قیمت 1400 روپے فی تھیلا تک رکھی جائے گی ٗقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات

  جمعرات‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2017  |  14:50

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ مالی سال 2017-18ء میں یوریا کی قیمت 1400 روپے فی تھیلا تک رکھی جائے گی ٗ 30 جون 2017ء کے دوران ملک میں ایڈز کے رپورٹ کردہ کیسز کی کل تعداد 8074 ہے ٗ حکومت ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے‘ مہلک امراض کے خاتمے کے لئے ہم اپنے اداروں کو تمام وسائل فراہم کریں گے ٗدیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیرکی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے۔جمعرات کو وقفہ سوالات کے دوران ثریا جتوئی کے سوال کے جواب

میں وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ مالی سال 2013-14ء میں زراعت کے لئے کسی ترغیب کا اعلان نہیں کیا گیا۔ 2014-15ء میں بھی کھادوں پر 14 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا لیکن کسی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے سبسڈی پر عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ مالی سال 2015-16ء میں کسان پیکج میں فاسفورس کھادوں پر 20 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا تھا۔ 12.5 ایکڑ زمین رکھنے والے کاشتکاروں کو کپاس اور چاول کے لئے 5000 روپے فی ایکڑ اور سبسڈی بھی فراہم کی گئی تھی ٗاس پیکج پر پنجاب نے عملدرآمد کیا۔ مالی سال 2016-17ء میں 27.96 ارب روپے کی زرعی اعانت ‘ ڈی اے پی اور یوریا فرٹیلائزرز کے لئے مختص کی گئی۔ زرعی اعانت میں یوریا کے لئے 17.16 ارب روپے اور ڈی اے پی اور دیگر فاسفورس کھادوں کے لئے 10.80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاہم رقم میں تقریباً 39 ارب روپے تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ مالی سال 2017-18ء کے لئے وفاقی حکومت نے 50 کلو گرام کے تھیلے پر 100 روپے کی نقد سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور مالی سال 2017-18ء میں یوریا کی قیمت 1400 روپے فی تھیلا تک رکھی جائے گی۔وزیر برائے صحت وقومی خدمات سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ 30 جون2017ء کے دوران ملک میں ایڈز کے رپورٹ کردہ کیسز کی کل تعداد 8074 ہے جن میں سے وفاق میں 503 ‘ پنجاب میں 3878‘ سندھ میں 2521‘ کے پی کے میں 881 ‘ بلوچستان میں 291 کیسز رجسٹرڈ کئے گئے۔ سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ ایڈز کے مریض اپنا مرض چھپاتے ہیں ٗایک بڑی تعداد علاج کرا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں رجسٹرڈ نہ کیا جائے۔ حکومت اور این جی اوز اس مرض کے حوالے سے لوگوں میںشعور اجاگر کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ ڈینگی کے حوالے سے حامد الحق کے سوال کے جواب میں سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں اس مرض پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جس کے اچھے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ہم نے صوبہ کے پی کے حکومت کو بھی پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ہماری مدد نہیں لینا چاہتے تو ہم زبردست نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر سپیکر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ وزیر مملکت جعفر اقبال نے کہا کہ سرمائے کے عدم انتظام کی وجہ سے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام تاحال شروع نہیں کیا جاسکا ہے تاہم زمین کے حصول ‘ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر یعنی تھور میں پروجیکٹ کی کالونی ‘ ہرپن داس میں مکمل ماڈل ویلج II کے قیام پر پیشرفت جاری ہے۔ منصوبے کے لئے سرمایہ سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے کے سلسلے میں وزارت پانی و بجلی نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو توانائی کے بارے میں کابینہ کمیٹی کو اپنی سفارشات منظوری کے لئے پیش کرے گی۔ اس منصوبے کو دو حصوں یعنی ڈیم سے متعلق حصہ اور بجلی گھر سے متعلق حصہ میں تقسیم کیا گیا ہے اس سلسلے میں ڈیم کے حصہ کے پی سی ون 26-3-2017 کو منصوبہ بندی کمیشن کو پیش کردی گئی ہے۔ ڈیم کی تعمیر پر پیشرفت کے بعد سال 2020ء پراجیکٹ کے بجلی پیدا کرنے والے حصے پر عملدرآمد کے لئے پی سی ون تیارکرکے پیش کیا جائے گا۔ پی سی ون میں دیئے گئے وقت کے مطابق ڈیمز کی تعمیر سے متعلقہ کام کے آغاز کے بعد تقریباً دس سال میں ڈیم کام کرنا شروع کردے گا۔ وزیر مملکت برائے صحت چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ یہ درست ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے آغاز اور تکمیل میں تاخیر کی بڑی وجہ فنڈز کا بروقت دستیاب نہ ہونا ہے۔ اگرچہ مالی بندش کے بغیر منصوبے کے آغاز میں 2008ء تک تاخیر واقعہ ہوئی‘ واپڈا نے حکومت پاکستان سے نیلم جہلم سرچارج کی مد میں 5.2 ارب روپے نقد ترقیاتی قرضے کی فراہمی کے بعد منصوبے پر کام کا آغاز کیا۔ حکومت پاکستان نے دسمبر 2009ء تا دسمبر 2016ء میںغیر ملکی اور ملکی قرضوں سے رجوع کیا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ رقوم فراہم کرنے کے لئے کوئی قرض دہندہ تیار نہ تھا تاہم بعد ازاں ای اے ڈی کی ٹھوس کوششوں سے 2014ء میں چین کے ایگزم بنک نے ابتدائی طور پر 448 ملین امریکی ڈالر اور بعد ازاں فروری 2017ء میں 576 ملین امریکی ڈالر کا دوسرا قرضہ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ مقررہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث منصوبے پر کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ حکومت پاکستان‘ واپڈا اور این جی ایچ پی سی نے منصوبے کے لئے مختلف کوارٹرز سے فنڈز کا انتظام کرنے کی اپنی پوری کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ لاگت میں اضافے کے باعث مالی معاہدے کو فی الحال پورا نہیں کیا گیا اگرچہ حکومت پاکستان کی جانب سے سو ارب روپے کے سقوق فنڈز کا معاہدہ اور ایگزم بنک سے 576 ملین امریکی ڈالر کا قرضہ بھی لیا گیا ہے۔ وزیرقومی صحت‘ خدمات سائرہ افضل تارڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ادویات کی تیاری کے دوران معیار کو یقینی رکھنا‘ رجسٹریشن کے لئے ضروری پیرا میٹرز ہیں جیسا کہ تحفظ ‘ افادیت وغیرہ پر غور و خوض کے ذریعے یہ پیرا میٹرز بنائے جاتے ہیں لہذا پاکستان کی عوام محفوظ ہے‘ اگر وہ مقتدرہ بورڈ یعنی رجسٹریشن بورڈ سے باضابطہ منظور کردہ رجسٹرڈ ادویات استعمال کرتی ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت کام کرتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے پری کوالیفکیشن کے عمل میں ہے۔ کیو ایم ایس کا I اور II درجہ حاصل کرلیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے افادیت کا ٹیسٹ لیا جاچکا ہے اور پری آڈٹ میں تجویز کردہ تبدیلیوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جس سے پاکستان میں ادویات کا اعلیٰ معیار یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ فارما سیوٹیکل برآمد کو بھی اس سے تقویت ملے گی۔ اس سال کے آخر یا زیادہ سے زیادہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی تک ڈبلیو ایچ او کا آڈٹ ہونا متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لئے پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ادویات کی روک تھام کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ انسپکٹرز وقتاً فوقتاً مختلف ادویہ ساز کمپنیوں پر چھاپے مارتے ہیں اور انسپکشن کی جاتی ہے۔ عائشہ سید کے ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے لئے آئندہ اجلاس میں بل پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء سے 2017ء کے عرصہ کے دوران ملک میں ڈرگ ایکٹ 2012ء اور ڈرگ ایکٹ 1976ء کی خلاف ورزی پر عدالتوں میں 8229 مقدمات چلائے گئے جن میں صنعتکار ‘ پرچون فروش اور تھوک فروش بھی شامل ہیں۔ 4835 مقدمات کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں 198 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس سلسلے میں سب سے اہم ادارہ ہے جو ہمیں 27 شعبوں میں اعانت پیش کرتا ہے۔ یہ ادارہ ہماری مالی مدد نہیں کرتا بلکہ ہمیں صرف تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح یونیسف کی طرف سے بھی ہمیں مدد ملتی ہے تاہم مہلک امراض کی روک تھام اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے اداروں کو وسائل فراہم کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں