ناخنوں کی یہ ساخت کینسر کی علامت تو نہیں؟

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  10:20

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر ایک سنگین مرض ہے جس کے دوران جسم میں خلیات کی شرح افزائش کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے۔ یہ کینسر زدہ خلیات اپنے ارگرد موجود ٹشوز کو تباہ کرنے لگتے ہیں اور صحت مند اعضاءپر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ کینسر کی علامات میں جسم میں آنے والی غیرمعمولی تبدیلیاں ہوتی ہیں جیسے پیشاب یا فضلے میں خون آنا یا جسم میں اچانک کسی گلٹی کا نمودار ہونا۔منہ میں کینسر کی یہ خاموش علامات جانتے ہیں؟ تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ ناخنوں سے بھی کینسر کے خطرے کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟ کینسر ریسرچ یوکے

کے مطابق 'کلب فنگر' کے دوران انگلیوں اور ناخنوں میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں۔ کلب فنگر سے مراد یہ ہے کہ ناخنوں کی بنیاد نرم پڑجائے جبکہ ناخن کے آس پاس کی جلد چمکدار ہوجائے، اسی طرح ناخن اطراف سے معمول سے زیادہ مڑجائیں جبکہ انگلیوں کے سرے پہلے سے زیادہ بڑے ہوجایں۔ اس طرح کی علامت عام طور پر پھیپھڑوں کے کینسر کی انتباہی نشانی ہوسکتی ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار 30 فیصد سے زائد مریضوں میں یہ علامت سامنے آتی ہے۔ کینسر ریسرچ یوکے کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ناخنوں کے نرم ٹشوز میں سیال کا اجتماع ہوتا ہے۔ پیروں سے ظاہر ہونے والی سنگین امراض کی 8 علامات بیان میں بتایا گیا کہ ویسے تو انگلیوں کی ایسی ساخت خاندان میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوسکتی ہے تاہم اگر ایسا اچانک ہو تو یہ کسی مرض کی نشانی ہوسکتی ہے جیسے امراض قلب، معدے میں ورم اور جگر میں خراشوں کے ساتھ پھیپھڑوں کا کینسر۔ پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک عام علامت ایسی کھانسی ہوتی ہے جو علاج کے باوجود ٹھیک نہیں ہوتی، سینے میں انفیکشن یا کھانسی میں خون آنا بھی دیگر علامات ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر اس مرض کی مختلف اقسام میں بہت عام ہے جس کی وجہ تمباکو نوشی کی عادت ہوسکتی ہے۔ پھیپڑوں کا کینسر، سب سے بڑا قاتل انٹرنیشنل ایجنسسی فار ریسرچ آن کینسر ( آئی اے آر سی) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا میں زائد آبادی کے باعث تقریبا 50 لاکھ کینسر کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2018 میں کینسر سے موت کا شکار ہونے والے لوگوں میں تقریبا نصف اسی براعظم سے تھے۔ ’روک تھام کے باوجود 2018 میں ایک کروڑ افراد کینسر سے ہلاک‘ کینسر کی اقسام میں دیکھا جائے تو پھیپڑوں کا کینسر مجموعی طور پر سب سے بڑا قاتل رہا اور اس سے 18 لاکھ اموات ہوئیں جو عالمی اعداد و شمار کے تقریبا ایک چوتھائی کے برابر ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں