’’کرونا وائرس کامئی کےتیسرے ہفتے ’’پِیک ‘‘پر ہوگا ‘‘ ڈیڑھ مہینے میں جتنے کیس ہوئے وہ پانچ دن میں ڈبل ہو گئے،مساجد میں رش سےمہک وباء کے پھیلنے کا خدشہ ، اگر ڈاکٹر اور عملہ متاثرہوا تو پھرکیا ہو سکتا ہے؟ طبی ماہرین نے نہ سنبھلنے والے حالات کی طرف اشارہ دیدیا

22  اپریل‬‮  2020

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈس اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالباری کا رمضان میں مساجد میں رش سے کورونا پھیلنےکےخدشات کے حوالے سےکہنا ہے کہ مساجد کھولنے سے کورونا تیزی سے پھیلے گا۔نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا تھا کہ کورونا کا پیک مئی کےتیسرے ہفتے میں ہوگا،ڈیڑھ مہینے میں جتنے کیس ہوئے وہ پانچ دن میں ڈبل ہو گئے۔انہوں نے

عوام سے درخواست کی کہ تراویح ،سنتیں گھر پر پڑھ لیں، ہیلتھ انفرا اسٹرکچر کمزور ہے، فرنٹ لائن پر عوام ہیں، ڈاکٹر اور عملہ متاثر ہوا تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔انہوں نے کہا کہ مجمع مارکیٹ میں ہو، دکانوں میں ہو یا کسی ہال میں یا مسجد میں اسے روکنا ہے، مساجد میں زیادہ تر 50 برس سے زیادہ عمر کے لوگ ہوتے ہیں، بڑی عمر کے افراد کو سمجھانا مشکل ہوتاہے، ایس او پی پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔ڈاکٹر عبد الباری کا کہنا تھا کہ کوررونا کے بغیر علامات والے افراد کی شرح 20سے 25 فیصد ہوتی ہے، اسپتال جانےوالے 15 فیصد افراد میں 3 فیصد وینٹیلیٹر پر جاتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دو ہفتے میں روزانہ کی ٹیسٹنگ 5سے 6ہزار ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ فنڈ اسپتالوں میں سہولتوں کیلیے خرچ کیے جائیں، یہ وقت نالیاں گلیاں بنانے کا نہیں بلکہ اسپتالوں کو حفاظتی سامان دئیے جانے کا ہے۔جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) قیصر سجاد نے کہا ہے کہ ڈیڑھ مہینے میں کیسز دگنے ہوگئے ہیں، ملک میں صحت کا انفراسٹرکچر بہت کمزور ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم کورونا ٹیسٹ نہیں کر پا رہے، قرنطینہ کی باقاعدہ سہولت بھی نہیں۔مساجد کھولنے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں مساجد جا کر ہی عبادت قبول ہوگی،سب لوگ رمضان میں گھر میں بیٹھ کر عبادات کریں۔انہوں نے کہا کہ نہیں لگتا کہ اکثریت کورونا سے احتیاط کے ایس اوپی پر عمل کرے گی، کورونا کے مریض بڑھے تو ہیلتھ کیئر سسٹم بیٹھ جائے گا۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے وزیراعظم اور صدر سے اپیل کی کہ گورنر، وزرائےاعلیٰ سے مساجد جانے کا معاہدہ واپس کرائیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان میں لوگ افطار پارٹیاں نہ کریں ،بہن بھائیوں کو بھی گھروں پر نہ بلائیں، عوام کہیں جا کر ہجوم بھی نہ بنائیں۔بہت سے لوگ بغیر علامت کورونا کی بیماری لے کر پھر رہے ہیں، بغیر علامات والے افراد کے مساجد میں جانے سے بیماری پھیل سکتی ہے۔ڈاکٹر قیصر سجاد نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمعے سے کورونا کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے، کورونا کے مریضوں کا رش بڑھنے سےاسپتال کے بستر کم پڑ سکتے ہیں۔پ

موضوعات:



کالم



میزبان اور مہمان


یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…