ملازمت میں توسیع،جنرل راحیل شریف کیا کہتے تھے؟نئے آرمی چیف کی تقرری میں کس کی رائے کو فوقیت دی؟وزیردفاع خواجہ آصف کا انٹرویو،حیرت انگیزانکشافات

26  ‬‮نومبر‬‮  2016

اسلام آباد(آئی این پی )جنرل راحیل شریف نے کبھی مدت ملازمت میں توسیع کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور بیس سال بعد کوئی آرمی چیف مقررہ مدت پر ریٹائر ہو رہے ہیں ، روایات کی روشنی میں دہشت گردی کے خلاف جاری رہے گی اور نئے آرمی چیف کی تقرری میں راحیل شریف کی رائے کو فوقیت حاصل ہے ۔،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ محدود جنگ کی سی کیفیت ہے ، بھارت سینکڑوں دفعہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے ، ہماری طرف ہونے والی شہادتوں سے بھارت کا جانی نقصان بہت زیادہ ہے ، دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابیوں اور سی پیک کی تکمیل بھارت کو راس نہیں آ رہی ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سینکڑوں دفعہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اور اس وقت بھارت کے ساتھ محدود جنگ کی سی کیفیت ہے ، ہماری شہادتوں سے کہیں زیادہ بھارت میں جانی نقصان ہورہا ہے ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیاں اور سی پیک کی تکمیل بھارت کو راس نہیں آرہی ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی قیادت کشمیری نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے ، پاک بھارت جنگ کے امکان کو رد نہیں کر سکتا، ہمارے سرحد پر حملوں میں بھی بھارت کی طرف سے پہل ہو رہی ہے ، نریندر مودی سے پاک بھارت جنگ سمیت کسی بھی قسم کی حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے مگر انڈس واٹر کمیشن پر بین الاقوامی ضمانتیں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی گجرات کے مسلمانوں کا قاتل بھی ہے ، اس کا ریکارڈ کریمنل ہے ،مودی کی سوچ خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے ۔وزیردفاع نے کہا کہ نریندر مودی کا کرنسی تبدیل کرنے کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا ہے ، علاقائی ممالک سی پیک میں شمولیت کے خواہشمند ہیں جس سے ہمیں بھی بہت فائدہ ہوگا، سی پیک کامیاب ہو گا تو ہمارے دوست اور دشمن سب اس کا حصہ بنیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی خود انحصاری میں چین کا بہت بڑا تعاون شامل ہے ، چین دفاعی اور سفارتی سمیت تمام معاملات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ، علاقائی سطح پر ایک نیٹو طرف کی تنظیم ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے کبھی مدت ملازمت میں توسیع کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور بیس سال بعد کوئی آرمی چیف مقررہ مدت پر ریٹائر ہو رہے ہیں ، روایات کی روشنی میں دہشت گردی کے خلاف جاری رہے گی اور نئے آرمی چیف کی تقرری میں راحیل شریف کی رائے کو فوقیت حاصل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عزت اور وقار کے ساتھ آفس سے جانے کی روایت دیگر اداروں میں بھی ہونی چاہیے ۔ وزیردفاع نے کہا کہ عمران اور قادری کے دھرنوں کے پیچھے کوئی ادارہ نہیں بلکہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے اپنی بہادری اور قابلیت سے عوام کے دلوں میں گھر بنایا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بھی مضبوط ہونا چاہیے ، نوازشریف نے کئی بار کہا ہم نے ماضی سے سبق حاصل کیا،نوازشریف جیسا تجربہ اور کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز رشید نے نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ خود کو ہر قسم کی تحقیقات کے لئے پیش کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں تبدیلی زیر غور نہیں ہے ۔

موضوعات:



کالم



میزبان اور مہمان


یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…