ٹراما سنٹر میں خودکش بم دھماکے کے بعد پشاور سمیت جنوبی اضلاع کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ

  اتوار‬‮ 21 جولائی‬‮ 2019  |  18:42

کوہاٹ(این این آئی)صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹراما سنٹر میں مبینہ خودکش بم دھماکے کے بعد پشاور سمیت جنوبی اضلاع کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی اور باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا۔ اس ضمن میں صوبائی سیکرٹری محکمہ صحت کے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اتوار کے روز ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ٹراما سنٹر میںبم دھماکہ کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ)‘ خیبر ٹیچنگ ہسپتال(کے ٹی ایچ) اورحیات میڈیکل کمپلیکس(ایچ ایم سی) سمیت کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذکردی اور


پشاور کے ہسپتالوں کے ہاسپیٹل ڈائریکٹرز سمیت ضلع کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہا اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز(ڈی ایچ اوز) اور ان اضلاع میں تمامسرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کو ہدایات جاری کردیں تاکہ وہ بم دھماکے میں زخمی تمام افراد کو بہترین سہولتیں اور طبی امداد فراہم کریں۔دریں اثناء ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹراما سنٹر میں مبینہ خود کش دھماکے اور کوٹلہ سیداں چیک پوسٹ حملے میں شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ اعجاز شہید پولیس لائن ڈیرہ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں سٹیشن کمانڈر ڈیرہ بریگیڈئیر راؤ عمران سرتاج، ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ فیروز شاہ، سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام، پولیس اہلکاروں و معززین علاقہ نے شرکت کی، اس موقع پر پولیس کے دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی جبکہ سٹیشن کمانڈر، آرپی او، کمشنر، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ نماز جنازہ ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کئے گئے جنہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپر د خاک کیا گیا۔واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد سول ہسپتال ٹراما سنٹر میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں 4پولیس اہلکاروں اورکمسن بچی سمیت8افراد شہیدہ،8پولیس اہلکاروں اور کمسن بچے سمیت30افراد زخمی ہو گئے‘ بچے سمیت متعدد شدید زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد آرمی ہیلی کاپٹر میں پشاور اور اسلام آباد شفٹ کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ صبح تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں کوٹلہ سیداں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے چیک پوسٹ پر تعینات ایف آر پی پولیس کے دو اہلکارایل ایچ سی جہانگیر سکنہ کورائی اور کانسٹیبل انعام اللہ سکنہ نون نواب موقع پرہی شہید ہوگئے، جن کو ریسکیو 1122کی ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ منتقل کیا گیا، اس دوران دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کے علاوہ شہید اہلکاروں کے رشتہ داران او دیگر عام مریض بھی موجود تھے کہ اس اثناء میں ہسپتال کے ٹراما سنٹر کے باہر مبینہ خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ دھماکے کے نتیجے میں ایلیٹ پولیس فورس کے دو پولیس اہلکار ہدایت اللہ اور خلیل سمیت پانچ سالہ مریم ولد مشتاق،ضمیر حسین ولد محمد نذیر اور ایک نامعلوم شخص شہید ہوگیا جبکہ پولیس اہلکاران اسلام اللہ، نصیب اللہ، کاشف سجیل، فضل الرحیم اور ڈی ایس بی اہلکار عابد خٹک سمیت نعیم قریشی، محمد عدیل، حیات، سہیل، حمزہ، محمد آصف، مشتاق، عظیم، فضل الرحمن اور محمد سلیمان سمیت30افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ریسکیو1122، سرکاری اور نجی ایمبولینسز کی مدد سے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعہ کی اطلاع کے بعدسٹیشن کمانڈر ڈیرہ بریگیڈئیر راؤ عمران سرتاج، ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ فیروز شاہ، ڈی پی او سلیم ریاض سمیت پولیس و عسکری حکام موقع پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے سے ٹراما سنٹر کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ کر دور جاگرے اور ٹراما سنٹر کے باہر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی تباہ ہوگئے۔دھماکے کے بعد علاقہ میں خوف ہراس پھیل گیا اور ہسپتا ل روڈ پرمیڈیکل سٹورز سمیتدیگر دوکانیں بندہوگئیں۔بم ڈسپوزل ذرائع کے مطابق دھماکے میں 8سے10کلو گرام بارود مواد استعمال کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خود کش دھماکہ خاتون حملہ آور نے کیا تاہم بعد ازاں خود کش حملہ آور کی باقیات کے جائزہ اور مبینہ طور پر کالعدم تحریک کی جانب سے جاری بیان کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور خاتون نہیں بلکہ مرد تھا۔ ادھر ضلعی انتظامیہ کے مطابق شدید زخمی ایک بچے کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا جبکہ دھماکے میں شہید ایلیٹ فورس اہلکاروں کے جسد خاکی بھی پولیس لائن میں نماز جنازہ ادائیگی کے بعد آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی علاقے دیرپہنچائے گئے۔

loading...