حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2019  |  23:34

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر قومی ادویات پالیسی تیار کر رہے ہیں، یہ پالیسی تمام شراکت داروں کو مفید مشورے فراہم کرے گی اور قیمتوں، معیارات اور ریگولیشنز کے اہداف کا تعین کرے گی جس کے تحت لوگوں کو ارزاں نرخوں پر ادویات فراہم کی جائیں گی۔ غریب افراد کے لئے قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، ادویات کے معیار اور قوانین سمیت تمام مسائل کو حل کیا جائے گا،تمام ادویہ ساز کمپنیاں 20 مئی 2019ء  تک ادویات کی قیمتیں 75 فیصد


تک لے آئیں، ایسا نہ کیا گیا تو ڈرگ کورٹ سے رابطہ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 2018ء میں 464 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ بہت سی ادویات مارکیٹ سے غائب کردی گئیں جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر 2018ء کو 889 ادویات کو ایس آر او میں شامل کیا گیا جس کے تحت ادویات کی قیمتیں طے کی گئیں۔ 464 ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافہ کیا گیا، 395 کی قیمتوں میں کمی کی گئی جبکہ 30 ادویات ایسی تھیں جن کی قیمتوں میں ردوبدل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادویہ ساز کمپنیاں 20 مئی 2019ء تک ادویات کی قیمتیں 75 فیصد تک لے آئیں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو ڈرگ کورٹ سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صحت کے شعبہ میں بہتری کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 2 سے 3 سال تک موجودہ حکومت کے موثر اقدامات سے اس شعبہ میں انقلاب لائیں گے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مثالی اتھارٹی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وڑن صحت کے شعبہ میں غریب طبقہ کو تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ادویات کی قیمتوں کو غریب طبقہ کی پہنچ میں لائیں گے، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ادویات کی ریگولیشن ٹھیک نہیں ہوئی جس کی وجہ سے فارما انڈسٹری کو جب موقع ملتا ہے وہ ادویات کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء سے 2013ء تک ادویات کی قیمتوں کو منجمد کردیا گیا۔

موضوعات:

loading...