پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمال صدیقی اوروزیربلدیات سعید غنی آمنے سامنے ،تلخ جملوں کا تبادلہ،سنگین الزامات عائد کردیئے

  جمعہ‬‮ 19 اپریل‬‮ 2019  |  21:50

کراچی (این این آئی) سندھ اسمبلی میں جمعہ کو ایوان کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمال صدیقی اوروزیربلدیات سعید غنی آمنے سامنے آگئے اور ان دونوں کے درمیان خاصی گرما گرمی ہوئی اورتلخ جملوں کابھی تبادلہ ہوا۔پی ٹی آئی کے ایم پی اے جمال صدیقی نے اپنے حلقے میں پانی کی شدید قلت پر توجہ دکاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلقے میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس بھی موجود ہیں حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے کوئی اقدام نہیں کیا۔جمال صدیقی کے اس توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر بلدیات نے یہ کہتے ہوئے


اعتراض اٹھا یا کہ رولز کے مطابق جس معاملے ایک مرتبہ ایوان میں پیش ہوجائے تو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جاتا،مجھ پرآج الزام لگایا گیا ہے جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں واضع کرتا ہوں پورے سندھ میں ہائیڈرنٹس سے پیسے نہیں لئے اگر لئے تو مجھ سے بڑا لعنتی کوئی نہیں ہوگا ورنہ جھوٹا الزام لگانے والا خود لعنتی ہوگا۔ایوان میں سعید غنی کے ریمارکس پر گرماگرمی شروع ہوگئی اگر مجھ پر حملہ کیا جائے گا تو جواب بھی دوں گا، ذاتی حملہ کیا گیا اور الزام تھوپا کیا گیا ۔سعید غنی نے غصے میں آکر کہا کہ میں نے فاضل ممبر کے بھائی کو اس لیئے ہٹایا وہ چوبیس گھنٹے شراب پیتا تھا اور آفس میں بیٹھ کر بھی شراب نوشی کرتا تھا۔سعید غنی کے اس انکشاف پر یوان میں اپوزیشن ارکان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے وزیر بلدیات سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیاسعیدغنی نے کہا کہ میں کسی سے ہر گز کوئی معافی نہیں مانگوں گا اور اپنے بیان پر قائم ہوں۔جس پر اپوزیشن کی جانب سے دہمکی دی گئی کہ اگر معافی نہیں مانگی گئی تو ہم واک آؤٹ کریں گے ۔ اپوزشن ارکان ایوان میں شور شرابہ کرنے کے بعد واک آؤٹ کرگئے ۔ سعید غنی نے کہا کہ سمیع صدیقی جب ڈی جی کے ڈی اے تھے تو وہ پیسے لیتے ہونگے اپنے بھائی سے فاضل ممبر پوچھیں کتنے پیسے لیتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ آپ کے بھائی کو اس لئے ہٹایا گیا کہ وہ سارا دن ٹن رہتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمیع صدیقی کے ڈے اے کے دفتر میں بیٹھ کر شراب پیتا تھا ۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن تنزیلہ قمبرانی نے اپنے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے دریافت کیا کہ اساتذہ کی تربیت کے لیئے کس ادارے سے معاہدہ کیا گیا ہے ۔ وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے بتایا کہ پاکستان بھر میں اساتذہ کی تربیت کے لیئے کو عالمی معیار کا تربیتی ادارہ نہیں تھا ، حکومت سندھ نے فن لینڈ سے ایک ماہر تعلیم کی ٹیم اور ادارے سے رابطہ کیا ہے ،ہم جولائی سے سینٹر کا آغاز کررہے ہیں اس سے صوبے کی تعلیم کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

موضوعات:

loading...