’’ڈی پی او پاکپتن ، آئی جی اسلام آباداور پنجاب کے بعد پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے ایک اور افسر کو جانا پڑ گیا‘‘ وزیراعظم عمران خان سمیت کئی مقتدرشخصیات کی کونسی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا ؟ قومی اخبار کی رپورٹ میںسنسنی خیز انکشافات

  جمعہ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2019  |  12:00

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین سی ڈی اے اور حکومت کے در میان چلنے والے تنازعہ کا بالآخر ڈراپ سین ،کنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کی بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی لیز بحال کرنے پر شدید تحفظات، چیئرمین سی ڈی اے طویل رخصت پر چلے گئے، تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے بعض ایشو اور کنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کیبلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی لیز بحال کرنے پر شدید تحفظات رکھنے والے چیئرمین سی ڈی اے اور حکومت کے درمیان تنازعہ کا بالآخر ڈراپ

سین ہو گیا ہے اور چیئرمین سی ڈی اےنے 120 دن کی رخصت لے لی ہے۔وفاقی کابینہ نے ان کی جگہ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی کو چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج دینے کی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن ایک دو روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے اپنی سخت اور بے لچک طبیعت کی وجہ سے حکومتی وزراء کیلئے ناقابل قبول ہوگئے تھے۔ وفاقی کابینہ نے ان کی جگہ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی کو چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج دینے کی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن ایک دو روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے اپنی سخت اور بے لچک طبیعت کی وجہ سے حکومتی وزراء کیلئے ناقابل قبول ہوگئے تھے۔ذ رائع کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے کےکنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کی لیز بحال کرنے پر شدیدتحفظات تھے کیونکہ یہ لیز بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی تھی۔ گرینڈ حیات ٹاور میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ کئی سیا سی اور مقتدر شخصیات کے اپارٹمنٹس ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ خلاف ورزی ریگولر ہو جائے ۔ پلاٹ کی الاٹمنٹ کی شرائط کے تحت یہاں سروس اپارٹمنس بننے تھے ۔ سروس اپارٹمنٹس فروخت نہیں کئے جاسکتے یہ کمرشل سر گرمی کے زمرے میں آ تا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں