سوزوکی کمپنی کی گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ کمی، پاکستانی معیشت کے لیے ایک اور بری خبر

  بدھ‬‮ 12 دسمبر‬‮ 2018  |  23:45

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان میں گاڑیوں کی خریداری 17فیصد کم ہو گئی، پانچ برس بعد مالی سال کے پہلے5 ماہ میں گاڑیوں کی خریداری میں کمی دیکھی گئی۔پاکستان آٹو مینوفیکچر ایسوسی ایشن کے مطابق رواں برس نومبرمیں مجموعی طور26 ہزار511 گاڑیاں فروخت ہوئیں، گزشتہ سال نومبر میں 28 ہزار 232 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں،زیادہ کمی کمرشل مقاصد کیلیے استعمال ہونے والی پک اپ، بسوں،ٹرکوں اور ٹریکٹرز کی خریداری میں ریکارڈ کی گئی۔نومبرمیں 19 ہزار521 کاریں، 608 جیپیں،1796 پک اپ فروخت ہوئیں جبکہ نومبر میں فروخت ہونے والے ٹریکٹرز کی تعداد 3 ہزار 938 تھی،جو پچھلے سال سے 34 فیصد کم ہیں،نومبر میں


ایک لاکھ 44 ہزار تھری وہیلر اور موٹر سائیکلیں خریدی گئیں جو گزشتہ سال سے ساڑھے سات ہزار کم ہیں۔ٹاپ لائن سیکورٹیز کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی طور پرپہلے سے 4 فیصد کم گاڑیاں فروخت ہوئیں، اس عرصے میں پانچ سال کے بعد پہلی مرتبہ آٹو سیل میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔واضح رہے کہ 2018ء نومبر میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی چھوٹے انجن والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، نان فائلر پر عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے گزشتہ مہینے ایک ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، سوزوکی کمپنی جو چھوٹی گاڑیاں فروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے،اس کمپنی کی گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ ماہ36.6فیصد کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ پچھلے سال کے اسی مہینے کی نسبت اس کی 13ہزار346 گاڑیاں کم فروخت ہوئیں، اسی طرح نومبر کے مہینے میں اس کی گاڑیوں کی فروخت میں 8 ہزار 511 کی کمی واقع ہوئی۔رپورٹ کے مطابق مہران گاڑی کی فروخت میں 44 فیصد کمی ہوئی ہے، سوزوکی سوئفٹ، سوزوکی بولان کی فروخت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے البتہ سوزوکی کلٹس کی فروخت میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

loading...