سپیکر اورڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد قوانین کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ نہیں بلکہ ڈویڑن ہوگی، اس موقع پر آصف علی زرداری اور بلاول کیا کریں گے؟حامد میر کے انکشافات،شہباز شریف مشکل میں پڑ گئے

  منگل‬‮ 14 اگست‬‮ 2018  |  20:35

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپیکر اورڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد قوانین کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ نہیں بلکہ ڈویڑن ہوگی، اس موقع پر آصف علی زرداری اور بلاول کیا کریں گے؟حامد میر کے انکشافات،شہباز شریف مشکل میں پڑ گئے،تفصیلات کے مطابق معروف صحافی حامد میر نے اپوزیشن اتحاد پر بڑے سوال اُٹھادیئے ہیں انہوں نے کہا کہ نئی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے دوران سب کی نظریں آصف زرداری اور بلاول زرداری پر ہوں گی کیونکہ ان کے ووٹ سے ہی یہ واضح ہو گا کہ اپوزیشن اتحاد متحد ہے بھی یا نہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں

گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول ن لیگ کے امیدوار شہبازشریف کی حمایت کرتے بھی ہیں یا نہیں؟ اس بات پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں قوانین کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ نہیں بلکہ ڈویڑن ہوتی ہے۔ اگر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے ووٹ شہباز شریف کو دیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ اپوزیشن اتحاد متحد ہے لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایوان میں نظر نہیں آیاتو اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن متحد نہیں،حامد میر نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں شرکت کریں گے لیکن وزیراعظم کے انتخاب کے دوران شہبازشریف کو ووٹ دینے کے معاملے میں وہ کیا کرتے ہیں اس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور یہی اپوزیشن اتحاد کا اصلی امتحان ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں