ریحام خان نے عمران خان کے ساتھ ساتھ زلفی بخاری کو بھی ڈبو دیا، زلفی بخاری دراصل کون سا خوفناک کام کرتا تھا اور اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ سنسنی خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  19:40

نوٹ: یہ خبر ریحام خان کی کتاب کے اقتباسات سے جاری کی جا رہی ہے، کتاب کی زبان ایسی ہے کہ ہماری معاشرتی اقدار اس قسم کی زبان کی اجازت نہیں دیتیں، ادارہ ایسی زبان کو حذف کرکے خبریں دینے کی کوشش کر رہا ہے اور بطور ادارہ ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب نہیں لکھی جانی چاہیے تھی اور اگر لکھنی ہی تھی تو اس قسم کے نجی واقعات اور ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔ یہ تمام الزامات ریحام خان عائد کر رہی ہیں اور ان کی تصدیق یا تردید کرنا متعلقہ شخصیات پر ہے اور

ہمارے ادارے کا اس سارے مواد سے کوئی تعلق نہیں۔لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان کے دوست زلفی بخاری کے بارے میں بھی انتہائی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، ریحام خان اپنی منظر عام پر آنے والی کتاب میں زلفی بخاری کے بارے میں لکھتی ہیں کہ جب میں لندن گئی تو عون مجھ سے رابطے میں رہا، اس نے مجھے بتایا کہ وہاں مجھے زلفی بخاری کا ڈرائیور ائیر پورٹ پر لینے آئے گا، ریحام خان نے لکھا کہ جب میں پہنچی تو زلفی کی بینٹلے گاڑی اس کا بھارتی ڈرائیور سدھیر لے کر وہاں موجود تھا۔ وہ مجھے مے فیئر میں زلفی بخاری کے آفس لے کر گیا، ریحام نے لکھا کہ میں زلفی بخاری سے ایک بار بنی گالہ میں مل چکی تھی، عمران خان ایک جانب زلفی بخاری کی سیاسی ناپختگی پر طنز کرتا تھا اور دوسری جانب اس کی انتہائی کم عمری میں اتنا زیادہ پیسہ کمانے پر تعریف بھی کرتا تھا۔ ریحام خان نے لکھا کہ میرے لیے بھی یہ بات انتہائی دلچسپی کا باعث تھی کہ یہ راتوں رات امیر کیسے ہوا؟ ریحام خان نے لکھا کہ جب میں نے اس بارے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ زلفی بخاری کا باپ واجد بخاری ایک سیاستدان تھا۔ اس نے ضیاء الحق کے دور میں پاکستان سے لوگوں کو لیبیا اور چاڈ بھجوانے کا کام کرکے بہت زیادہ پیسہ کمایا تھا۔ ریحام نے لکھا کہ ان لوگوں میں زیادہ تر پشتون تھے جنہیں اس نے لیبیا اور چاڈ سمگل کیا۔ ریحام خان نے لکھا کہ واجد بخاری جب یہ دھندا کر رہا تھا تو صرف ایک پھیرے میں چار سو سے زیادہ پاکستانی سمندر میں ڈوب کر مر گئے تھے۔ یاد رہے کہ ریحام خان کی کتاب کو ایمازون کے ٹیبلٹ کنڈل پر جاری کیا گیا ہے اور کسی پبلشر سے یہ کتاب نہیں چھپوائی گئی، یہ کتاب صرف آن لائن پڑھی جا سکتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں