نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو نے ملکی ساکھ کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ن لیگ کا بھی شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا، شہباز شریف نے بالآخر بڑا فیصلہ کر لیا

  جمعرات‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2018  |  12:47

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ انٹرویو کے بعد قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں عسکری قیادت کی جانب سے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا وہیں مسلم لیگ ن میں بھی اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو کے بعد سابق وزیراعظم پاکستان اور ن لیگ کے رکن اسمبلی میر ظفر اللہ جمالی نے قومی اسمبلیکی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا ہے جبکہ ن لیگ کے کئی اراکین بھی پرواز بھرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو کے بعد جہاں ن لیگ

میں اس حوالے سے تحفظات موجود ہیں وہیں ان کے اپنے بھائی شہباز شریف جو اس وقت مسلم لیگ ن کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں بھی تحفظات رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے بھی اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے ۔ جاوید چوہدری اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں بھائیوں میں فوج‘ افغانستان اور انڈین پالیسی پر اختلاف ہے‘ میاں شہباز شریف فوج کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں ہمیں کام کرنا چاہیے‘ ہمارا کام کبھی نہ کبھی ہمیں فتح یاب کر دے گا جبکہ میاں نواز شریف فوج سے مقابلہ بھی چاہتے ہیںاورافغان اور انڈین پالیسی بھی بدلنا چاہتے ہیں‘ ان ایشوز پر مریم نواز‘ پرویز رشید اور طارق فاطمی ان کے ساتھ ہیں‘ مشاہد حسین سید بھی اب اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔پارٹی کے سینئر لوگوں کا خیال ہے سرل المیڈا کے ڈان ٹو کے متنازعہ فقرے کے ڈیزائنر بھی مشاہد حسین سید ہیں‘ پارٹی بھی نواز شریف کے نقطہ نظرکے خلاف ہے‘ پارٹی سمجھتی ہے ملک اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ملک ہے‘ ہم ان سے لڑ کر سیاست کر سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت کر سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں