جامعہ نعیمیہ میں نوازشریف کیا اعلان کرنے والے تھے کہ ان پر جوتے سے حملہ کرکے سازش کے تحت انہیں روکاگیا، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کے حیرت انگیزانکشافات

  بدھ‬‮ 14 مارچ‬‮ 2018  |  19:20

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ جامعہ نعیمیہ میں اختلافات کی خبریں بے بنیادہیں، سازش کے تحت دینی ا دارے کی کردار کشی افسوسناک اورقابل مذمت ہے،مجرمان کا جامعہ نعیمیہ سے کوئی تعلق نہیں ،ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،میاں نواز شریف کی جامعہ نعیمیہ میں آمد پر جامعہ کے تمام اساتذہ ،نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان کے عہدیداران اراکین جامعہ نعیمیہ ،بزم نعیمیہ اورطلباء کا متفقہ فیصلہ تھاجس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں تھا جبکہ اخبارات میں اس بات کے متضاد خبریں شائع کی گئیں جن میں کوئی صداقت نہیں ۔نشریاتی

اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے قبل متعلقہ ادارے کے سربراہ یا ذمہ دار سے تصدیق کریں۔نعیمی خاندان سے شریف خاندان کے تعلقات عقیدت اورشاگردی کی بنیادپر قائم ہیں ۔ 11مارچ کوجامعہ نعیمیہ میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ کی بھرپورمذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیوخ الحدیث، مفتیان کرام، اساتذہ نعیمین ایسوسی ایشن اوربزم نعیمیہ کے ہنگامی مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں شیخ الحدیث مفتی عبدالعلیم سیالوی،شیخ ا لحدیث مفتی انورالقادری،شیخ الحدیث علامہ غلام نصیر الدین چشتی،شیخ الحدیث مولانا محبوب احمد،ڈاکٹرمحمدسلیمان قادری،مفتی غلام مرتضی نقشبندی،مفتی محمدعمران حنفی،مفتی محمدہاشم رضوی،مفتی محمدعارف حسین ،مفتی محمدمدنی،پیر سید زین العابدین شاہ،محمد صابر نقشبندی،مفتی قیصر شہزاد،قاری رفیق نقشبندی،محمد کلیم فاروقی،قاری ذولفقار نعیمی،قاری غلام محی الدین،علامہ غلام یاسین،علامہ مسعود سیالوی،قاری اشفاق قصوری،قاری منظور نعیمی،قاری عبدالرحمن جامی،قاری غلام رسول،حاجی عمران،سید زبیر شاہ،مفتی ابوبکر قریشی،مولانامحمدسلیم نعیمی اور دیگر بزم نعیمیہ اور نعیمین ایسوسی ایشن کے عہددران، کارکنان اور طلباء موجود تھے ۔اجلاس میں مفتی اعظم پاکستان سیمینار کے دوران مہمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ اور دینی ادارے کی تقدس کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور حملہ کرنے والے ملزمان کو کڑی سزادینے کا مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ نعیمیہ کے بارے اختلافات و نفرتوں کے انبار لگا کر اس بات کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا گیا جو کہ ادارے کی دینی وتعلیمی ساکھ کوخراب کرنے کی سازش ہے۔سماجی رابطوں کے ذرائع پر جس طریقے سے کردار کشی کی جارہی ہے وہ قابلِ مذمت ہے ۔جامعہ نعیمیہ نے ہمیشہ مذہبی شدت پسندی اور دہشتگردی کی تمام کاروائیوں کی بھرپور مذمت کی ہے اور کرتا رہے گا۔ مہمانوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموسِ رسالت کے بارے میں جو طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے وہ عامیانہ طرز کا ہےاس لیے جامعہ نعیمیہ نے تحفظ ختم نبوت و تحفظ ناموسِ رسالت کے حوالے سے راست طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مکالمہ و ڈائیلاگ کی بنیاد پر تھا ۔مفتی اعظم پاکستان سیمینار میں تحفظ ختم نبوت و تحفظ ناموسِ رسالت اور راجہ ظفر الحق رپورٹ بارے میاں نوازشریف نے اہم اعلان کرناتھا۔تخریب کاروں نے مہمانوں پر حملہ آور ہو کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کی ۔جامعہ نعیمیہ نے ہر سطح پر دہشتگردی، مذہبی شدت پسندی کے خلاف آواز کو بلند کیا ہے اور امن و استحکام کے لیے کاوشیں کی ہیں ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید علیہ الرحمہ نے تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموسِ رسالت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔جامعہ نعیمیہ ہمیشہ امن کا درس دیتا رہا ہے اور دیتا رہے گا ۔جامعہ نعیمیہ سے متعلق مختلف آراء فیس بک سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن کو دیکھ و سن کر بندہ مومن کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں