الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد طلب کرلئے

  بدھ‬‮ 14 مارچ‬‮ 2018  |  12:45

اسلام آباد ( آئی این پی ) الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد طلب کرلیے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے،بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں اور جو بیچتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں، اخبارات اور ٹی وی پر بھی آیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں جبکہ اس موقع پر وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن

کمیشن آرٹیکل 220 کے تحت تحقیقات کرسکتا ہے اور یہ آرٹیکل الیکشن کمیشن کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے،،عظمیٰ بخاری نے سماعت کے دوران کہا کہ چوہدری سرور نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ایم پی ایز نے ان کا ساتھ دیا لیکن ان کا نام نہیں بتاؤں گا، کیا آپ چوہدری سرور کو نوٹس کر سکتے ہیں؟ بدھ کو الیکشن کمیشن میں سینیٹ انتخابات کے دوران مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق معاملے کی سماعت چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے کی ، عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل شاہد گوندل، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ایس اے اقبال قادری ، وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب اور مسلم لیگ (ن) کی رہنماء عظمیٰ بخاری ، اور وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام پیش ہوئے ، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جو ہم نے بیانات دیئے ہیں ہم نے نکوائری کمیٹی بنا دی ہے ، ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے مکمل معاونت کریں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر بھی آیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے ، وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 220 کے تحت تحقیقات کرسکتا ہے اور یہ آرٹیکل الیکشن کمیشن کو انٹیلی جنس یجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ،ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں، ایس اے قبال قادری نے کہا کہ ہم نے اپنی گزارشات تحریری طور پر جمع کرادیں ہیں ، پورا میڈیا بھر ا پڑا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے ،، چیف الیکشن کمشنر نے کہا نے کہا کہبدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں اور جوبیچتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں ۔عظمی بخاری نے سماعت کے دوران کہا کہ چوہدری سرور نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ایم پی ایز نے ان کا ساتھ دیا لیکن ان کا نام نہیں بتاؤں گا، کیا آپ چوہدری سرور کو نوٹس کر سکتے ہیں؟، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ اسی لئے آپ کی معاونت چاہتے ہیں ان کو بھی بلا لیں گے۔ چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے، الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں