چوہدری شجاعت کا ماسٹر سٹروک، ن لیگ کا شیرازہ بکھیر کررکھ دیا، تحریک انصاف کے بھی کئی ارکان کی ق لیگ میں شمولیت کا امکان ، دھماکہ خیز انکشاف

  پیر‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2017  |  12:01

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پانامہ کیس فیصلے کے بعد جیسے ہی نواز شریف کی نا اہلی کی خبر عدالت سے باہر آئی، ن لیگ کے اہم رہنما جو پہلے کی اس فیصلے کی صورت میں عام انتخابات 2018میں پارٹی کی کامیابی کے حوالے سے خدشات کا شکار تھے انہیں اپنا مستقل تاریک نظر آنے لگا اور انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں سےرابطے بھی شروع کر دئیے تھے تاہم ن لیگکی اعلیٰ قیادت کی کامیاب حکمت عملی کے باعث پارٹی جہاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچ گئی وہیں ن لیگ کی حریف سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا کریڈ

ٹ جاتا ہے جنہوں نے اس حوالے سے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں شریک ملک کے دو اہم سیاسی تجزیہ کاروں عاصمہ شیرازی اور حامد میر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ن لیگ اس وقت دھڑے بندی کا شکار ہے اور 56ممبران پر مشتمل ایک گروپ اور دوسرا گروپ جو کہ 40ممبران پر مشتمل ہے وجود میں آچکا ہے ۔اس دھڑے بندی کو جہاں پانامہ فیصلے کے بعد نواز شریف کی نا اہلی نے پروان چڑھایا وہیں ن لیگ کی نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کیلئے انتخابی آئینی بل کی جلد بازی میں کی جانےوالی بھونڈی کوشش نے بھی جلا بخشی جس کے ذریعے ختم نبوت فارم میں حلف نامے کے بجائے اقرار نامہ شامل کر لیا گیا تاہم انکشاف ہوتے ہی ملک بھر میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ عوامی حلقوں کے شدید ردعمل نے بھی حکمران جماعت کو ختم نبوت فارم کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے پر مجبور کر دیا ۔ ختم نبوت فارم میں تبدیلی کے اس عمل کے سامنے آتے ہی خود ن لیگ کے اندر ایک شدید ردعمل دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے پہلے سے دھڑے بندی کا شکار ن لیگ کو شدید دھچکا پہنچااور ریاض الدین پیرزادہ جو کہ وفاقی کابینہ کا بھی حصہ پہلے سے ہی تحفظات کا اظہار کر چکے تھے کے بعد میر ظفر اللہ جمالی کی جانب سے قومی اسمبلی میں تقریر نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور متعدد ن لیگی ممبران اسمبلی جو پہلے ہی عام انتخابات میں پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے تحفظات اور خدشات کا شکار تھے انہیں پارٹی کے اس اقدام نے مزید الجھنوں کا شکار کر دیا ۔دوسری جانب ن لیگ کےرہنمائوں کے پارٹی قیادت اور پارٹی فیصلوں پر تحفظات کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ ق کی قیادت ایک بار پھر سرگرم نظر آرہی ہے اور اس نے نہ صرف عام انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں وہیں کئی لیگی ارکان نے بھی چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی سے رابطہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابقکئی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی اس وقت چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کی قیادت ان ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کی شمولیت سے قبل ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کو حتمی شکل دینا چاہتی ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی نا اہلی کی صورت میں تحریک انصاف میں بھی دھڑے بندیوںاور ٹوٹ پھوٹ کی خبریں زیر گردش ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو کئی ارکان پارٹی چھوڑ کر ق لیگ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ق اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے اور عمران خان کی ممکنہ نا اہلی کی صورت میں تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی اٹھا سکتی ہے اور یہ دونوں جماعتیںعام انتخابات میں بڑی کامیابی سے محروم ہو سکتی ہیں جنہیں اس وقت پاکستان کے سیاسی پنڈت عام انتخابات میں دو بڑی متحارب قوتوں کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں