ملتان میٹروسکینڈل،چینی کمپنی یابیٹ نے کتنے ملین ڈالرز کا دعویٰ کیا،کرپشن نہیں ہوئی تو ایف آئی اے کیا کررہی ہے؟ حیرت انگیزانکشاف

  بدھ‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2017  |  18:00

اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس نے ملتان میٹرو پراجیکٹ کے معاملات پر شفاف تحقیقات نہ کرنے کے معاملات پر ایس ای سی پی کے پانچوں کمشنرز کو طلب کرلیا اب تک ملتان میٹرو پراجیکٹ کی کیوں تحقیقات نہ ہوئیں‘ ایس ای سی پی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کو مطمئن کرنے میں ناکام ۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈیوالہ کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی نے بتایا کہ میٹرو پراجیکٹ ملتان میں یابیٹ چائنہ کمپنی کے معاملات کو

ایف آئی اے دیکھ رہی ہے جبکہ اس معاملے میں چین سے بھی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یابیٹ نے چائنہ سکیورٹی اینڈ ایکس چینج کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ اس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ سینیٹر مشاہد حسین اور سینیٹر کلثوم کے جعلی خطوط بھی اپنے پروفائل میں لگائے۔یابیٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حبیب رفیق کنسٹرکشن کمپنی کی سب کمیٹی کیپیٹل انجینئرنگ سے ملتان میں کنٹریکٹ لیا لیکن اس کے ثبوت نہ مل سکے۔ یابیٹ نے چائنہ ایس ای سی پی کو بتایا کہ اس نے پاکستان میں 32.5 ملین ڈالر کا کنٹریکٹ کیا ہوا ہے۔ اس موقع پر آڈٹ حکام نے آگاہ کیا کہ 2016-17 میں مختلف وزارتوں کے اداروں میں 382 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ملتان میٹرو بس پراجیکٹ میں مبینہ ایک کروڑ 75لاکھ ڈالر کی کرپشن پر رپورٹ مکمل نہ کرنے پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ایس ای سی پی حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی یابیٹ نے چینی ریولیٹر کے سامنے ملتان میٹرو پراجیکٹ 32.5 ملین ڈالر میں لینے کا دعویٰ کیا جس کی تحقیقات ہی نہیں کی گئیں جس پر چین ریگولیٹر نے یابیٹ کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ ایس ای سی پی حکام نے فنانس کمیٹی کو بتایا کہ یابیٹ کی جانب سے مشاہد حسین ‘ کلثوم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے جعلی لیٹر پیش کئے۔وزارت خارجہ کے ایک آفیسر نے بھی ایک ایری سیشن لیٹر جاری کیا اب تک کی چینی ادارے کی تحقیقات میں کسی پاکستانی کا کردار ثابت نہیں ہوا۔ ایس ای سی پی حکام کے مطابق انہوں نے اسٹیٹ بنک سے حبیب رفیق کمپنی کا ٹرانزکشن منگوایا ہے جو چینی ریگولیٹر ادارے کو بھجوایا جائے گا تحقیقات مکمل ہونے پر ملتان میٹرو کی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں