پاکستان کافاسٹ اٹیک میزائل کرافٹ تیاری کے مراحل میں، 600 ٹن وزنی میزائل کرافٹ کب مکمل ہوجائے گا،بڑا اعلان کردیاگیا

  منگل‬‮ 19 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  18:20

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو سیکرٹری نے بتایا ہے کہ وزارت دفاعی پیداوار کی ازسرنو ڈھانچہ سازی کر رہے ہیں، وزارت دفاعی پیداوار پالیسی تک نہیں بنا سکتی، وزیراعظم کو لکھ کر دیا،وزارت دفاعی پیداوار نجی شعبے کیساتھ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی،وزارت نے سرکاری اور نجی شعبے کے مابین مضبوط تعلق بنانا تھا، نہیں بنا،آئندہ ہفتے وزیراعظم ہاؤس میں وزارت سے متعلق اہم جائزہ پیش کر رہے ہیں۔منگل کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری دفاعی پیداوار


اجلاس میں شریک ہوئے۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ ہمارے پاس ہر طرح کی صلاحیت ہے لیکن ہر ادارے نے اپنا الگ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ ایئرپورٹ برج کے چند پرزے 7 لاکھ روپے کے باہر سے منگوائے جا رہے تھے، یہی پرزے لاہور سے 6 ہزار 500 روپے میں بنوائے۔ سیکرٹری دفاعی پیداوار نے کہاکہ وزارت دفاعی پیداوار کی ازسرنو ڈھانچہ سازی کر رہے ہیں۔ سینیٹر محمد اکرم نے کہاکہ پاکستان بندرگاہوں، شپ یارڈ، اسٹیل مل سب میں پیچھے کیوں، دنیا آگے نکل گئی۔ سیکرٹری دفاعی پیداوار نے کہاکہ وزارت دفاعی پیداوار پالیسی تک نہیں بنا سکتی، وزیراعظم کو لکھ کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ وزارت دفاعی پیداوار نجی شعبے کیساتھ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہاکہ وزارت نے سرکاری اور نجی شعبے کے مابین مضبوط تعلق بنانا تھا لیکن نہیں بنا۔ سیکرٹری نے کہاکہ آئندہ ہفتے وزیراعظم ہاؤس میں وزارت سے متعلق اہم جائزہ پیش کر رہے ہیں۔دور ان سماعت منیجنگ ڈائریکٹر کراچی شپ یارڈ نے بریفنگ دی اور بتایاکہ پاکستان بحری قوم نہیں، بنگلہ دیش اور بھارت ہیں، اسی لیے شپ یارڈ اور بندرگاہوں نے ترقی کی۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش دنیا کا ایک فیصد کمانے کیلئے کوشاں ہے،جس دن بحری شعبے کو اہمیت دیں گے تو ترقی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کئی سال سے گوادر شپ یارڈ ایجنڈے پر ہے لیکن زمین کی نشاندہی تک نہیں ہوئی،شپ یارڈ کسی بھی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،سکھر بیراج کے 6 گیٹس بنا رہے ہیں، جو کوئی بڑا کام نہیں۔ حکام نے بتایاکہ کراچی شپ یارڈ، حکومت اکستان سے تنخواہ، انتظامی اخراجات کی مد میں کوئی رقم نہیں ملتی، شپ بلڈنگ صنعت دنیا میں ملکوں کی ترقی کا زینہ ہے۔ حکام نے بتایاکہ جنگی، سامان برادر جہازوں سمیت 448 کراچی شپ یارڈ میں تیار کر چکے۔ حکام کراچی شپ یارڈ نے کہاکہ پاک بحریہ نے 3 ڈرجر جہازوں کی تیاری کا آرڈر دے رکھا ہے، بیرون دنیا میں ابوظہبی کو 3، ایرانی بحریہ کو 19، بلجیم کو 6، چین 4 اور سعودی عرب کے 2 بحری جہاز تیار کیے۔شپ یارڈ حکام نے بتایاکہ پاکستان نیوی کیلئے فاسٹ اٹیک میزائل کرافٹ تیاری کے مراحل میں ہے،یہ جہاز پہلی مرتبہ پاکستان میں ڈیزائن کیا گیا۔ حکام نے بتایاکہ کراچی شپ یارڈ 600 ٹن وزنی میزائل کرافٹ ستمبر 2020ء میں پاک بحریہ کے سپرد کریگا۔ حکام نے بتایاکہ اس فاسٹ اٹیک کرافٹ پر حربہ میزائل نظام بھی مقامی سطح پر تیار کردہ ہے، شپ یارڈ 2 ٹگز، 4 جی آر پی بوٹس بھی 2020ء میں بحریہ کے سپرد ہوں گی۔ حکام نے بتایاکہ کراچی شپ یارڈ، ملجم کارویٹس فروری، اگست 2024ء میں پاک بحریہ کے سپرد کریگا۔حکام نے بتایاکہ پاک بحریہ کیلئے اکتوبر 2020ء میں 4 ہنگور کلاس آبدوزوں کی تیاری کا عمل شروع ہو گا، کراچی شپ یارڈ میں مکمل آبدوزیں تیار ہوں گی۔ایم ڈی کراچی شپ یارڈ نے کہاکہ کراچی شپ یارڈ ستمبر 2025ء تا 2028ء تک آبدوزیں بحریہ کے سپرد کریگا، چین پاک بحریہ کیلئے 4 آبدوزیں شانگلو شپ یارڈ میں تیار کریگا۔ انہوں نے بتایاکہ آبدوزوں کی تیاری کیلئے شیڈ، جہاز اٹھانے اور منتقلی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔

loading...