نریند ر مودی کی جانب سے کشمیر بارے ثالثی کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کو جھوٹا قرار دیدیا

  منگل‬‮ 23 جولائی‬‮ 2019  |  0:18

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درحواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دئیے گئے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درحواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرےاور اس معاملے پر انڈیا کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے


جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔ادھر انڈین کشمیر میں سیاسی جماعت جموں اینڈ کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب ٹویٹ کے ذریعے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ وہ اس مثبت قدم کو خوش آمدید کرتے ہیں جس کی مدد سے خطے میں مستقل امن قائم ہو سکتا ہے۔ تاحال انڈیا کی جانب سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دخواست کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے، امریکہ خطے میں پولیس مین نہیں بننا چاہتا،ہم پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہے ہیں،کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی،امریکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں،دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو ضرور جاؤں گا،ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا فوجی حل کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا،مسئلہ کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے، امید ہے آنے والے دنوں میں طالبان کو مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے اور سیاسی حل نکل آئیگا۔ پیر کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا بعدازاں میڈیا کو ہاتھ ہلاکر ملاقات کیلئے چلے گئے،پہلے مرحلے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں تجارت اور سرمایہ کاری میں دو طرفہ تعاون بڑھانے اور جنوبی ایشیا سمیت افغانستان میں قیام امن کے لیے مل کر کام کرنے سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔ملاقات کے آغاز میں میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئیگی۔اوول آفس میں گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کیلئے امریکہ پاکستان کے ساتھ کام کررہا ہے اور امریکہ خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ماضی میں امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔امریکی صدر نے کہاکہ اگر میں چاہتا تو یہ جنگ میں ایک ہفتے میں جیت جاتا مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا، ورنہ افغانستان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا، مگر میں وہ راستہ اپنانا نہیں چاہتا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور اس کیلئے بہت قریب پہنچے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے اور سیاسی حل نکل آئیگا۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم پہلی مرتبہ اتنے قریب آئے ہیں اور صدر ٹرمپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغانستان کا فوجی حل کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان درینہ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اگر میں کوئی تعاون کرسکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں جبکہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر دونوں لیڈرز بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں، عمران خان اور میں دونوں نئے لیڈرز ہیں، مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے، کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں‘ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کر پائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی  اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے زور دے پائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکہ بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے۔ امید ہے ہم آنے والے دنوں میں طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں افغان مسئلے کے حل کیلئے امن معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔ٹرمپ سے پاکستان کے دورے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تاحال کوئی دعوت نہیں ملی لیکن میں پاکستان کا دورہ کرنا چاہوں گا۔ملاقات شروع ہونے سے قبل صحافی کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔

موضوعات:

loading...