پاکستان اور بھارت کی ”جمہوریت“ میں کیا فرق ہے؟عمران خان نریندر مودی کی طرح کون سا کام کرلیں تو پاکستان کی معیشت چند گھنٹوں میں اپنے قدموں پر کھڑی ہوجائے گی،اسد عمر کی اپنی ہی حکومت پر تنقید کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

  جمعرات‬‮ 20 جون‬‮ 2019  |  21:51

انڈیا میں ابھی چند دن پہلے الیکشن ختم ہوئے، نریندر مودی چالیس پارٹیوں کے ساتھ کیل اور کانٹے کا مقابلہ کر کے دوسری بار وزیراعظم منتخب ہو گئے، یہ پارٹیاں اور تمام لیڈرز ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں لیکن آپ جمہوریت کا حسن ملاحظہ کیجئے کل نریندر مودی نے اپنی 21 مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو دعوت دی‘یہ سب خون کے پیاسے ایک جگہ جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی افادیت بڑھانے‘ ایک ملک‘ ایک الیکشن‘ اضلاع کو مثالی بنانے اور 75 ویں یوم آزادی تک انڈیا کو نیا بھارت بنانے کا مشترکہ فیصلہ کیا‘یہ میٹنگ پوری دنیا


کیلئے پیغام تھا ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن انڈیا کے ایشو پر ایک ہیں اور یہ وہ مسنگ لنک ہے جس سے ہمارا ملک محروم ہے‘ کل میاں شہباز شریف اور آج آصف علی زرداری نے حکومت کو میثاق معیشت کی دعوت دے کر حکومت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا، یہ حکومت کیلئے کھلی دعوت ہے‘ اگر عمران خان نریندر مودی کی طرح اپنا دل وسیع کر لیں تو آپ یقین کیجئے پاکستان کی معیشت چند گھنٹوں میں اپنے قدموں پر کھڑی ہو جائے گی‘ ہماری سٹاک ایکسچینج بھی مستحکم ہو جائے گی اور ڈالر کی اڑان بھی رک جائے گی لیکن آپ اگر یہ نہیں کرتے تو پھر باہر تو باہر آپ کو اندر سے بھی اس قسم کی مزاحمت کا سامنا کر پڑ جائے گا، اسد عمر اپنی ہی حکومت پر تنقید کرنے والے ملکی تاریخ کے پہلے سابق وزیر خزانہ ہیں‘ حکومت نے اگر اس آواز پر توجہ نہ دی تو اسد عمر کو ایک سے گیارہ ہوتے دیر نہیں لگے گی۔آصف علی زرداری نے آج ایک اور دلچسپ بات بھی کی، یہ بات بھی بہت الارمنگ ہے‘ کیا معاشی میثاق پر حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ہو سکتے ہیں جبکہ اپوزیشن میثاق کی دعوت بھی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر رہی ہے ہم حکومتی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔

موضوعات:

loading...