پاکستان کے بعد چین نے بھی افغانستان میں پنجے گاڑنے شروع کر دئیے،دونوں ممالک مل کر کونسے شاندار منصوبے شروع کرنیوالے ہیں، امریکہ اور بھارت کے ہوش اڑ گئے

  ہفتہ‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2018  |  12:50

کابل(آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے،خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ،کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں، پاکستان شروعسے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے،افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا،، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے

کیلئے اہم ہے،چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور امن و استحکام چاہتے ہیں۔ہفتہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی تعاون اس سلسلے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے ، پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے ، پاک چین اور افغانستان کی معیشت آپس میں جڑی ہوئی ہے ، پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ، ہمیں تعاون بڑھانے اور انٹیلی جنس روابط بڑھانے کی ضرورت ہے ، دہشت گردی کے چیلنج کا بہترین حل روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ترقی ہے ،چالیس سال سے افغانستان جنگ وجدل کا شکار ہے ، افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا،ہمیشہ افغان قیادت کی سربراہی میں مذاکرات کی حمایت کی ، تینوں ممالک کے باشندوں کے درمیان گہرے روابط ہیں ، خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تین ماہ میں کابل کا یہدوسرا دورہ ہے ، افغان صدر کے طالبان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں ، افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں ، کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں ، اب دنیا ہمارے مذاکرات کے موقف کی تائید کرتی ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی معاونت بروئے کار لا کرافغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کی جائے ، افغانستان میں قیام امن خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے ، پاکستان شروع سے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے ، سہ فریقی مذاکرات کا مقصد الزام تراشی اور منفی بیان بازی سے گریز کرنا ہے ، انسداد دہشت گردی ، سیکیورٹی ، بارڈر منیجمنٹ کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے ، معلومات کے تبادلے سے باہمی معاونت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے ، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے کیلئے اہم ہے ۔ قبل ازیں کابل روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے۔ چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور وہاں امن و استحکام چاہتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں