نیب لوگوں کو پکڑ لیتا ہے لیکن آخر میں کیس اسٹیبلش نہیں کر پاتا اور یوں دو ڈالر کی چوری پر 600 ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں،یہ صورتحال جاری رہی تو شاید ایوان اور ملک دونوں چلانا ممکن نہ رہے ،اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟طارق فضل چودھری اور علی اعوان میں سے کون سیاست یا عہدہ چھوڑے گا ؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

  بدھ‬‮ 12 دسمبر‬‮ 2018  |  21:47

تائیوان میں پچھلے دنوں یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے پولیس کو اپنے فریج سے دہی کا ایک ڈبہ چوری ہونے کی شکایت کی‘ ڈبے کی قیمت دو ڈالر تھی‘ پولیس نے شکایت پر تفتیش کے ساتھ ساتھ چھ مشکوک طالب علموں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا‘ اس ٹیسٹ پر اور تفتیش پر 600 ڈالر خرچ ہو گئے‘ یہ واقعہ رپورٹ ہوا تو عوام نے شدید احتجاج کیا‘عوام کا کہنا تھا پولیس کی نالائقی دیکھئے‘ اس نے دو ڈالر کی چوری پر ٹیکس پیئرز کے چھ سو ڈالر ضائع کر دیئے ‘ مجھے محسوس ہوتا ہےتائیوان کے ساتھ ساتھ اس

نوعیت کا احتجاج پاکستان میں بھی جاری ہے‘ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں‘ بیورو کریسی اور پرائیویٹ ادارے نیب کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں‘ یہ نیب سے پوچھ رہے ہیں نیب لوگوں کو پکڑ لیتا ہے‘ یہ لوگوں کو عدالتوں میں گھماتا پھراتا رہتا ہے لیکن یہ آخر میں کیس اسٹیبلش نہیں کر پاتا اور یوں دو ڈالر کی چوری پر 600 ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں‘ یہ الزام کس حد تک درست ہے‘ یہ ہم آج کے پروگرام میں ڈسکس کریں گے لیکن اس طرف جانے سے پہلے آپ آج کی قومی اسمبلی کی کارروائی کی جھلکیاں ملاحظہ کیجئے، صورتحال گھمبیر ہوتی نظر آ رہی ہے‘ یہ صورتحال جاری رہی تو شاید ایوان اور ملک دونوں چلانا ممکن نہ رہے ۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے اور مراد سعید نے دعویٰ کیا ن لیگ کے سات ارکان نے ان سے این آر او مانگا‘ یہ بہت بڑا الزام ہے‘ سپریم کورٹ نے اگر اس کا نوٹس لے لیا تو حکومت کیا کرے گی؟ اور کل کے پروگرام میں طارق فضل چودھری اور علی اعوان نے ایک دوسرے کو ایک چیلنج دیا تھا،دونوں کا کہنا تھا یہ آج ثبوت لے کر پروگرام میں تشریف لائیں گے‘ ہم دیکھیں گے کون پروگرام میں آتا ہے اور کون نہیں آتا‘ کون خود کو سچا ثابت کرتا ہے‘ کون جھوٹا نکلتا ہے‘ کون سیاست یا عہدہ چھوڑتا ہے اور کون یوٹرن لیتا ہے‘ ہم چھوٹی سی بریک کے بعد ان دونوں اور ان دونوں کے ثبوتوں کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوتے ہیں‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں