’’کرپشن پر سزائے موت مقرر کی گئی تو پاکستان کی آبادی بہت کم ہو جائیگی‘‘ حکمرانوں کو پیغام دیدیا جو کرپشن کریگا وہ بھرے گا، چیئرمین نیب کا دبنگ اعلان

  اتوار‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2018  |  12:51
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب )کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ارباب اختیار کو احساس دلانے میں کامیاب ہوگیا کہ جو کرپشن کرے گا وہ بھرے گا اور سب کا احتساب ہوگا،کہا گیا تھا کہ نیب کچھ بھی نہیں، جس نے کہا تھا انہیں اب کسی حد تک یقین ہوگیا ہے، مردہ درخت میں جان آگئی، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، کسی بھی حکومت کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ نیب ہماری طرف کیوں دیکھ رہا ہے۔نظام حکومت میں بیورو کریسی ریڑھ کی ہڈی ہے، یہ خراب ہو جائے تو تھراپی کرنی پڑتی ہے، جس نے کرپشن کی ہے اس کو آ کر احتساب دینا پڑے گا، شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار نہیں ہونا چاہیے، ملک 95 ارب ڈالر کا مقروض ہے، یہ پیسے کہاں، کیسے خرچ ہوئے، اگر پوچھا جائے تو کونسی گستاخی ہوگئی، ان لوگوں کو دیکھیں جن کے پاس 70 سی سی بائیک تھی اور آج ان کے پاس بڑے بڑے ٹاور ہیں۔یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر ایوان صدر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کسی دور میں پسندیدہ ادارہ نہیں رہا۔ لوگوں کو اس کا کام نظر نہیں آتا لوگ چاہتے ہیں کہ کرپشن فری پاکستان ہو مگر کوئی یہ نہیں چاہتا کہ ان پر کوئی نظر ڈالے۔ نیب کا تعلق ریاست پاکستان کے ساتھ ہے نیب کے ساتھ حکومت نے مکمل تعاون کیا۔ کسی سیاسی سرگرمی میں نیب کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ نیب آزاد ہے اور اس حوالے سے کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ بدعنوانی کے خاتم کے لئے ہم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں نیب کسی کی ڈکٹیشن نہیں لے گا اور نہ ہی انتقامی کارروائی کرے گا۔ حکومت نے نیب کو پہلی مرتبہ ایک خودمختار دارہ تصور کیا ہے ملک 95 ارب ڈالر کا مقروض ہے جو کہ ایک خطیر رقم ہے نیب نے اگر یہ پوچھ لیا کہ 95 ارب ڈالر کیسے خرچ ہوئے تو کیا گستاخی ہوگئی۔ لوگ فراموش کرگئے کہ یہ عہد مغلیہ نہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کسی کی عزت کو ٹھیس نہ پہنچے یہ سامنے رکھ کر پوچھا گیا ہے۔ نیب کے پاس اختیار ہے کہ کسی سے بھی کچھ پوچھ سکتاہے اور ہم نے پوچھا بھی اس وقت ہے جب پانچ لاکھ کی جگہ پچاس لاکھ اور پچاس لاکھ کی جگہ پچاس کروڑ اور پچاس کروڑ کی جگہ اربوں میں خرچ کیا گیا جس کا کوئی جواز تھا نہ کوئی وجوہات تھیں۔ گزشتہ ایک سال میں سب کو احساس دلانے میں کامیاب ضرور ہوا ہوں کہ جو کرے گا کرپشن وہی حساب دے گا۔یہ پیسہ غریب عوام کا ہے ان لوگوں کو دیکھیں جس کے پاس پہلے سیونٹی سی سی بائیک تھا اور آج دبئی میں بڑے بڑے ٹاور ہیں اور جب ان سے اس حوالے سے پوچھ لیا جائے تو اس میں کون سی گناہ کی بات ہے اگر ان کے سامنے یہ سب پوچھ گچھ جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے محسوس کیا کہ نیب کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے تاکہ لوگوں میں مایوسی پھیلے جو عناصر اس مہم میں مصروف ہیں ان کو اتنا بتا دوں کہ عوام کو معلوم ہے کہ کون سی بات غلط ہے اور کون سی درست ہے۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیوروکریسی چیئرمین نیب کی وجہ سے پریشان ہے۔ میں سب کو بتا دوں کی نیب تمام کام کرنے کے لئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گا اور کرتا رہے گا۔ نیب اپنا کام ہمیشہ جاری رکھے گا۔ بیوروکریسی نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی ہے اور اگر ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہوجائے تو ٹھیک تو کرنا پڑتی ہے ہمیں شاہ سے زیادہ شاہ کے فرمانبردار نہیں ہونا چاہئے۔ اب وہ دور نہیں کہ کوئی غلط حکم دے اور آپ اس کو تسلیم کرلیں۔ نیب کا ہر قدم رصف اور صرف پاکستان اور عوام کی بہتری کے لئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ادارے موجود ہیں جو اپنا کام کررہے ہیں کوئی ادارہ اگر کام بہتری سے کررہا ہے تو اس کو سیاست میں نہ لائیں۔ ہمارے کمرے سادہ سے ہیں لیکن ان میں سب نظام زندگی کی سہولت موجود ہے۔ بیوروکریسی پر جب بھی مشکل آئی تو سپریم کورٹ نے سوموٹو ایکشن ضرور لیا۔ نیب احتساب کا ادارہ ہونے کے باوجود احتساب کی رد میں دیتا ہے اب وقت کا پہیہ آگے کی طرف رواں دواں ہے۔ نیب اپنی بلا امتیاز کارروائی کرتا رہے گا۔ ہمیں اپنے مستقبل کی بہتری کیلئے کام کرتے رہنا ہوگا۔ہمیں باوقار ملک کی حیثیت سے قائم دائم رہنا ہوگا۔ بزنس کمیونٹی کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ بڑی خائف ہے ان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی کیلئے سزائے موت کیوں مقرر نہیں کرتی جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر سزائے موت مقرر کردی گئی تو آبادی بہت کم ہوجائے گی۔ سزا مقرر کرنا میرا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے۔ نیب ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتا جس سے معیشت پر کوئی برے اثرات پڑیں۔ ملک کے بڑے کنٹریکٹرز کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے لئے ان سے بھی پوچھا گیا تو ان کا جواب بھی نفی میں تھا۔نیب کا ہر اقدام پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لئے ہے سب نے اب قانون کو برداشت کرنا ہے۔نیب بروقت اقدام اٹھاتا ہے ہپر اس میں تھوڑا وقت ضرور درکار ہوتا ہے نیب جن جرائم کی تفتیش کرتا ہے وہ سب وائٹ کالر کرائم ہوتے ہیں وائٹ کالر کرائم اور کرمنل کیسز میں فرق ہوتا ہے۔ ہم محدود وسائل میں رہتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں نیب کا احتساب اس دن سے شروع ہوجاتا ہے جب عدالت جاتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ مضاریہ کیس میں ملکی اداروں کو لوٹا گیا اس سال تین ارب 64کروڑ روپے وصول کرکے مستحقین میں تقسیم کئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے نیب کو خودمختار ادارہ تسلیم کیا ہے نیب نے اگر پوچھا کہ جہاں کہاں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے جس کا جو جی چاہتا ہے وہ وہی کررہا ہے سب کا بہت مشکور ہیں۔

موضوعات:

loading...