قائد اعظم نے 15اگست کو یوم آزادی ماننے سے کیوں انکار کیا ؟اس دن ایسا کیا ہواتھا؟جاپان کیوں آج بھی قائد اعظم کا احسان مند ہے؟قومی اسمبلی کے سپیکر او رڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں کون جیتے گا؟ جاوید چودھری کاتجزیہ

  منگل‬‮ 14 اگست‬‮ 2018  |  21:54

خواتین وحضرات ۔۔ آپ کو میری طرف سے‘ میری ٹیم کی طرف سے اور پورے ایکسپریس میڈیا گروپ کی طرف سے جشن آزادی مبارک ہو‘ یہ ملک قائداعظم محمد علی جناح کی مہربانی ہے اور قائداعظم کتنی بڑی شخصیت تھے آپ ۔۔اس کا اندازہ تین مثالوں سے لگا لیجئے‘ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجوں کا (سپریم) کمانڈر تھا‘جاپان نے 15 اگست 1945ء کو ۔۔اسی کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے‘ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی انڈیا اور پاکستان دونوں 15 اگست کو آزادی کا ۔۔اعلان کریں‘ جواہر لال نہرو مان گئے

۔۔لیکن قائداعظم نے انکار کر دیا‘ ۔۔ان کا کہنا تھا ہم جاپان کی (غلامی) کے دن کو اپنی آزادی کا دن نہیں بنا سکتے چنانچہ پاکستان نے نہ صرف جاپان کے سرینڈر سے ایک دن پہلے آزادی کا ۔۔اعلان کیا بلکہ جاپان کو تاوان جنگ میں اپنا حصہ بھی معاف کر دیا‘ جاپان آج تک قائداعظم کے ۔۔ان دونوں اقدامات کی قدر کرتا ہے‘ دوسری مثال۔ قائداعظم صرف پاکستان کے بانی نہیں ہیں بلکہ ۔۔انہوں نے انڈونیشیا‘ ملایا‘ سوڈان‘ لیبیا‘ مراکش‘ نائیجیریا‘ الجیریا اور تیونس کی آزادی میں بھی اہم کردار ادا کیا‘ ۔۔انہوں نے ایران کو سوویت یونین اور عراق کو برطانیہ سے بھی بچایا تھا چنانچہ یہ 10 ملک آج بھی قائداعظم کی وجہ سے ہمارا احترام کرتے ہیں اور تیسری مثال۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کی بلڈنگ میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا‘ ۔۔اس خطاب میں آپ نے فرمایا تھا،امن وامان قائم رکھنا کسی حکومت کا اولین فریضہ ہوتا ہے تاکہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال اور مذہبی عقائد کا (مکمل) تحفظ کر سکے‘ ہم اگر اس عظیم ریاست کو پرمسرت اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں عوام بالخصوص غریب طبقوں کی فلاح وبہبود پر توجہ رکھنی ہو گی ۔پاکستان کو جس بدترین مسئلے کا سامنا ہے وہ رشوت ستانی اور کرپشن ہے‘ یہ ریاست کیلئے زہر ہے اور ہمیں اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔ آپ (اس) شخص کا وژن دیکھئے‘ ۔۔انہیں 71 سال پہلے معلوم تھا رشوت اور کرپشن ۔۔اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا‘ غریب طبقے ۔۔اس ملک میں پس کر رہ جائیں گے اور یہ ملک لاء اینڈ آرڈر اور مذہبی عقائد کے تحفظ کے ایشو سے باہر نہیں آ سکے گا اورآپ ہمارا کمال دیکھئے ہم نے 71 سال بعد بھی ۔۔ان میں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونے دیا‘ ہم نے آج تک ۔۔ان مسئلوں کو جوں کا توں قائم رکھا‘ کیا قائد تھے ہمارے اور کیا ہیں ہم۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں ، ہم لوگ قومی دنوں کو قومی کیوں نہیں رہنے دیتے اور کل سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا‘ کل اپوزیشن اور حکومت کی پہلی جنگ ہو گی‘ یہ جنگ کون جیتے گا‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں