ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قومی اسمبلی کی نشست خطرے میں پڑ گئی توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثارنے بڑا حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 10 اگست‬‮ 2018  |  12:08

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے نومنتخب رہنما و سینئر اینکر پرسن عامر لیاقت کیخلاف سپریم کورٹ میں نجی ٹی وی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی گئی تھی ۔ جس پر عدالت نے عامر لیاقت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی عدم حاضری پر کہا ہے کہکیوں نہ عامر لیاقت کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا جائے ، چیف جسٹس نے مزید کہا ہے کہ ایک ایسا شخص جسے

یہ معلوم نہیں کہ پبلک فورم پر کب اور کیا بولنا ہے ؟ کیا ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے ؟عام لوگوں کو ٹی وی پر کیا سکھایا جارہا ہے ؟ چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے ایک پروگرام کا ایک کلپ بھی چلوایا جس میں انہوں نے نجی ٹی وی کے مالک کیخلاف بھی توہین آمیز زبان بھی استعمال کی تھی ۔ چیف جسٹس نے عامر لیاقت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے توہین عدالت الفاظ کس کیلئے استعمال کیے؟ عامر لیاقت نے چیف جسٹس کے سامنے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ اسٹیج پر نہیں کھڑے ، عدالت میں ڈرامہ نہیں چلے گا ۔ عدالت میں غلط بیانی اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر عامر لیاقت حسین کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے عامر لیاقت حسین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی اور کیس کی مزید سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی لیکن پی ٹی آئی رہنما طلبی کے باوجود چیف جسٹس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔گذشتہ روز عدالت نے نفرت انگیز تقاریر کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے سے متعلق کیس میں عامر لیاقت حسین کو عدم حاضری پر 20 ہزار جرمانہ جرمانہ عائد کیا جب کہ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہعامر لیاقت جرمانہ کی رقم ڈیموں کی تعمیر کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹ میں جمع کروائیں۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتی کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بہت سے مسائل پمز ہسپتال میں حل ہوگئے ہیں‘ پمز کے کچھ ایشوز ہیں جو نئی حکومت کے آنے کے بعد دیکھیں گے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتیکیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے جواب جمع کرایا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ تعیناتیاں ٹھیک نہیں ہوئی تھیں ڈاکٹر وقار آفتاب نے اسلام آباد کی خدمت کی ہے ڈاکٹر وقار آفتاب نے بتایا کہ پمز ہسپتال میں تین پروجیکٹ مکمل کئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہفتہ یا اتوار کو پمز کے دورے پر جاسکتے ہیں بہت سے مسائل پمز ہسپتال میں حل ہوگئے ہیں اسلام آباد کے شہریوں کو اب طبی سہولتیں بہتر مل رہی ہیںپولی کلینک میں ابھی تک مسائل ہیں۔ ہم ڈاکٹر وقار کو پولی کلینک کا بھی پروجیکٹ دے دیتے ہیں ہسپتالوں کی حالت اب بہتر ہورہی ہے۔ پمز کے کچھ ایشوز ہیں جو نئی حکومت کے آنے کے بعد دیکھیں گے۔سپریم کورٹ نے پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتی کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں