سابق وزیراعظم نواز شریف کی 85 سالہ والدہ بیگم شمیم اختر کے خلاف بھی کرپشن کا کیس، انہوں نے ایسا کیا کام کیا تھا؟ افسوسناک انکشافات

  بدھ‬‮ 11 جولائی‬‮ 2018  |  22:03

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پانامہ کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ کے والیم 8 میں سفارش کی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی والدہ شمیم اختر کے خلاف رائے ونڈ میں گھر تعمیر کرنے کے معاملے پر کرپشن ریفرنس قائم کیا جائے لیکن اس کے باوجود نیب نے یہ کیس ابھی تک نہیں کھولا،ایک موقر قومی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ مالی حالات کو دیکھتے ہوئے شریف فیملی نے لاہور کے رائے ونڈ میں یہ عمارتیں تعمیر کرائیں

اور یہ کرپشن اور کرپٹ اقدامات کے زمرے میں آتا ہے، رپورٹ کے مطابق چونکہ شمیم اختر جن کی عمر 85 سال ہے، رائیونڈ میں قائم شریف فیملی کے گھر کی مالکن ہیں لہٰذا جے آئی ٹی نے سفارش کی تھی کہ ٹھوس شواہد کو دیکھتے ہوئے نیب کو ان کے اور ان کے بیٹے نواز شریف کے خلاف کرپشن ریفرنس نمبر 7 برائے 2000کھولنا چاہیے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نیسپاک (مشرف کے تحت) کے ماہرین کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں ان عمارتوں کی تعمیر کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا، رپورٹ کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ نیب پاناما جے آئی ٹی کی سفارش پر مری میں قائم شریف فیملی کے گھر کے حوالے سے بھی کرپشن کیس کھولنے سے گریز کر رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب نے رائے ونڈ میں گھر کی تعمیر کے لیے اور زرعی مقاصد کے لیے زمین کے حصول کی تحقیقات کے لیے بھی تحقیقات شروع نہیں کیں اس معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھرپور سفارش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے والیم 8 میں بتایا تھا کہ شریف فیملی بھکاریوں کی طرح تھی اور ان کے پاس یہ تمام جائیدادیں خریدنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے کچھ نہیں تھاکیونکہ ان کے تمام کاروبار یا تو بند ہو چکے تھے یا انہیں نقصانات کا سامنا تھا، پانامہ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس والیم میں بھرپور سفارش کی تھی کہ تمام زیر التوا ریفرنس، تحقیقات اور انکوائریاں دوبارہ کھولی جائیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان معاملات میں ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر نیب نے ابھی تک ان پر کارروائی شروع نہیں کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں