لاہور میٹرو 30 ارب ۔۔۔ راولپنڈی میٹرو 43 ارب، پشاور میٹرو 50 ارب سے 70 ارب روپے تک جا پہنچی، کے پی کے حکومت کی قلعی کھل گئی، حیران کن انکشافات

  جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018  |  1:56

پشاور (نیوز ڈیسک) عام انتخابات سے قبل پشاور میں ٹرانزٹ منصوبے کو مکمل کرنے کی تگ و دو میں اس منصوبے کی لاگت میں چالیس فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ جو منصوبہ 49.3 ارب میں مکمل ہونا تھا وہ اب 69.3ارب روپے میں مکمل ہو گا۔ اس منصوبے کے فنانس کے سربراہ نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ منصوبے کی اضافی لاگت دے سکیں۔ اس منصوبے کے لیے اضافی رقم کا بندوبست کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے پی سی ون پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے،جو تیار کرکے صوبائی ترقیاتی ورکنگ کمیٹی

کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے حکومت کی مالی پوزیشن انتہائی کمزور ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے اب اس منصوبہ کے تحریک انصاف کی حکومت میں مکمل ہونے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 49.3 ارب روپے کی خطیر رقم سے تعمیر ہونے والے پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کو گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں شروع کیا گیا جبکہ منصوبے کے افتتاح کے روز ہی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے چند مہینے میں پورا کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے اضافی رقم کا بندوبست ہونا بہت ہی مشکل ہے۔ ایک موقر انگریزی اخبار کو دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومت فی الحال فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی سے بات چیت کر رہی ہے جس نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے 130 ملین یورو دینے کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور میٹرو 30 ارب اور راولپنڈی میٹرو 43 ارب میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی حکومت کا یہ منصوبہ 49.3 ارب سے 69.3 ارب تک جا پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے ابتدا میں اس منصوبے پر نہایت تیز رفتاری سے کام کا آغاز کیا گیالیکن ڈیزائن میں باربار تبدیلیوں کی وجہ سے یہ پراجیکٹ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا ۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے حکومت اس منصوبے سے سائیکل لائن اور بسوں کی تعداد میں کمی کرے تو اس کے بجٹ میں کمی واقع ہو سکتی ہے، دوسری طرف حکومت نے جب اس منصوبے کا پی سی ون تیار کیا تو اس کی لاگت 49.3 میں ٹیکسز بھی شامل نہیں کیے گئے، اس وجہ سے صوبائی حکومت کو اس پر دوبارہ نظرثانی کرنا پڑے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت کی مدت 28 مئی کو ختم ہورہی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکے گا۔دوسری جانب بی بی سی نے اس منصوبے کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تقریباً 26 کلومیٹر پر مشتمل اس منصوبے پر ابتدائی طور پر 50 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا لیکن اب یہ لاگت مجموعی طورپر تقریباً 70 ارب روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔پشاور کے سینئر صحافی اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اول تو اس منصوبے کو انتہائی تاخیر سے شروع کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ انتخابات سے قبل اسے مکمل کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے لیکن اب لگتا ہے کہ اس سے ان کو فائدے کی بجائے نقصان کا خدشہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی خود اپنی حکومت میں اسے مکمل کرلیتی تو شاید اس سے کوئی سیاسی فائدہ ہوتا لیکن اب تو اس کے تکمیل میں کافی تاخیر ہو چکی ہے لہذا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کب مکمل ہوگا۔‘ان کے مطابق اب تو یہ لوگ یہ سوالات بھی اٹھائے رہے ہیں کہ کیا واقعی شہر میں ایسی کسی منصوبے کی ضرورت تھی بھی یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے سیاسی مخالفین الیکشن مہم میں اس ایشو کو بھر پور انداز میں اٹھائیں گے اور ان کی کوشش ہو گی کہ اس کے ذریعے سے پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بی آر ٹی کی ڈائزنینگ میں مسلسل تبدیلیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔شوکت علی یوسفزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں دو ماہ کی تاخیر ہوئی ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی سروے سے لے کر تعمیراتی کام تک اور رقم کی فراہمی وغیرہ یہ سب ذمہ داری ایشیائی ترقیاتی بینک کی ہے جس میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ڈایزائن کی تبدیلی بھی ایشیائی ترقیائی بینک کے کہنے پر کی گئی ہےلہذا اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تبدیلیاں صوبائی حکومت کی خواہش پر کی گئی ہیں۔ شوکت علی یوسفزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں دو ماہ کی تاخیر ضرور ہوئی لیکن اس کے باوجود یہ لاہور اور دبئی کے میٹروز کے مقابلے میں تیزی سے تعمیر ہوا ہے۔ ترجمان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ منصوبہ اس وجہ سے حکومت کے خاتمے کے آخری سال شروع کیا گیا تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران پنجاب میں تعمیر ہونے والی میٹرو بس سروس کو جنگلا بس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں