جاوید ہاشمی کی ایک سخت اور خطرناک ترین پریس کانفرنس جسے ریکارڈ کرنے کے بعد تمام ٹی وی چینلز نے نشر نہ کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی، کیا کچھ کہہ ڈالا؟ ناقابل یقین انکشافات

  ہفتہ‬‮ 19 مئی‬‮‬‮ 2018  |  21:55

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار نسیم شاہد اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی نے ملتان میں اتنی سخت پریس کانفرنس کی کہ ٹی وی چینلوں نے اسے نہ دکھانے ہی میں عافیت سمجھی۔ سب کو معلوم ہے کہ اس عمر میں جاوید ہاشمی کو تو کسی نے کچھ نہیں کہنا، حتیٰ کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اُن کی یہ خواہش پوری نہیں کرنی کہ مجھے توہین عدالت میں طلب کیا جائے۔اس کا وہ بار بار اظہار کر چکے ہیں اور جب کسی کی بات نہ سُنی جائے تو وہ جھنجھلاہٹ میں کچھ اور اونچا

بولنے لگتا ہے، وہی حالت بعض اوقات جاوید ہاشمی کی ہوجاتی ہے۔ ملتان کی پریس کانفرنس میں وہ غصے کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے، انہوں نے تندو تیز سوال کرنے والے صحافیوں کو بھی غصے میں جھاڑ پلا دی، حالانکہ یہ اُن کا کبھی وتیرا نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر اُن کی یہ پریس کانفرنس موجود ہے، کوئی اُن کی جرأت مندی کو سلام پیش کررہا ہے اور کسی کے نزدیک وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں، انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ کس حد تک آگے جانا ہے اور کہاں رکنا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جاوید ہاشمی پاکستانی سیاست کا ایک اہم کردار ہیں، اُن کی زندگی عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے، وہ آمروں کی کابینہ کا حصہ بھی رہے، لیکن سب سے زیادہ جمہوریت کا دفاع بھی انہوں نے ہی کیا۔ قید کاٹی، صعوبتیں برداشت کیں، مگر ڈٹے رہے۔ پارٹیاں ضرور بدلیں، تاہم یہ داغ نہیں لگا کہ ایسا انہوں نے مفادات کی وجہ سے کیا۔ اُن کا زیادہ عرصہ مسلم لیگ (ن) میں گزرا، پھر اچانک غالباً نواز شریف کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کے دکھ میں انہوں نے تحریک انصاف کی صدارت سنبھالی، جلسوں میں بڑے دھواں دھار خطاب کئے، نواز شریف پر تنقید کے نشتر چلائے، عمران خان کو پاکستان کی آخری امید قرار دیا، کراچی کے جلسے میں کہا عمران خان اب ایک باغی آپ کے ساتھ آملا ہے، اب ہم نے اس نظام کے خلاف بغاوت کرنی ہے، اپنے نظام اور نواز مخالف بیانیہ کو ساتویں آسمان پر لے گئے،پھر ایک دن اچانک ساری بازی پلٹ دی، تحریک انصاف کی تحریک کو اُس وقت شدید نقصان پہنچایا، جب وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر آرہی تھی، قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دیا اور خم ٹھونک کر عمران خان کے خلاف میدان میں آگئے۔ ضمنی انتخاب میں شکست ہوئی، مگر سیاست جاری رہی اور یہ کوشش بھی کہ کسی طرح مسلم لیگ (ن) میں باعزت واپسی ہو جائے۔ جس طرح اپنے محبوب کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے عاشق مختلف حربے اختیار کرتا ہے، اسی طرح جاوید ہاشمی بھی نواز شریف کی توجہ حاصل کرنے کے لئے مختلف جتن کرتے رہے۔جب بہت زیادہ زچ ہوجاتے تھے تو نواز شریف کی پالیسیوں کے خلاف بھی پریس کانفرنس کرڈالتے تھے، اگلے ہی دن اُن کا بیان اُن کی حمایت میں آجاتاتھا۔یہ ایک بہت اضطرابی عرصہ تھا، جو جاوید ہاشمی نے گزارا، اُن کے قاسم روڈ والے گھر کا ڈیرا ہمیشہ آباد رہتا تھا، مگر جونہی وہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سب اُن کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں، تنہائی اُن کا مقدر بن گئی،اس صورت حال سے نکلنے کے لئے وہ آئے روز کوئی نہ کوئی پریس کانفرس کرتے، تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں اُن کے مخالف دوستوں نے راستے بند کئے ہوئے تھے۔نواز شریف شاید چاہتے بھی ہوں گے، لیکن اُن کی کچن کیبنٹ کے لوگ انہیں قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔ نوازشریف نااہل نہ ہوتے اور انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو شاید آج بھی جاوید ہاشمی سیاسی تنہائی کا شکار ہوتے۔ نوازشریف جب نااہل ہوئے تو جاوید ہاشمی کھل کر ان کی حمایت میں سامنے آ گئے۔ انہوں نے جو ہو سکتا تھا کیا، تاہم بیل پھر بھی منڈھے نہ چڑھی۔۔۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ نوازشریف کا بیانیہ مسلم لیگ (ن) پر حاوی ہو گیا۔ چودھری نثار علی خان جیسے رہنما، جنہیں یہ بیانیہ پسند نہیں تھا، دبے اور کھلے لفظوں میں اس کی مخالفت کرنے لگے۔یوں ایک واضح لکیر کھینچی چلی گئی کہ کون نوازشریف کے ساتھ ہے اور کون دوسری طرف کھڑا ہے۔یہی وہ موقع تھا جب جاوید ہاشمی کی ضرورت اور اہمیت بڑھنے لگی۔ پھر وہ دن آیا جب نوازشریف نے انہیں ملاقات کے لئے اسلام آباد بلایا۔ اس دعوت پر جاوید ہاشمی کی خوشی دیدنی تھی۔ ان کی دیرینہ خواہش پوری ہونے جا رہی تھی۔ وہ اسلام آباد گئے، نوازشریف سے ملاقات ہوئی، انہوں نے نوازشریف کو اپنی حمایت اور وابستگی کا یقین دلایا، تاہم مسلم لیگ(ن) میں انہیں شمولیت کا پروانہ پھر بھی نہ مل سکا اور کہا گیا کہ ملتان میں جب جلسہ ہوگا تو اس میں جاوید ہاشمی کی باقاعدہ شمولیت ہوگی۔اس پس منظر میں جب گیارہ مئی کو مسلم لیگ (ن) کا ملتان میں جلسہ ہوا تو اس کی خاص بات یہی تھی کہ اس میں جاوید ہاشمی کو بھی دعوت دی گئی تھی، پھر جس طرح سٹیج پر نوازشریف نے ان کا استقبال کیا، انہیں اپنی تقریر کے اختتام پر اپنے پاس بُلا کر ان کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور جپھی ڈالی، یہ جاوید ہاشمی کے خوابوں کی ایک شاندار تعبیر تھی۔ گویا انہیں ایک نئی سیاسی زندگی مل گئی تھی۔ ان کے چہرے پر سرخوشی پورے جوبن پر تھی۔ ایسے لمحات میں انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے ممدوح کے لئے جان بھی نثار کر دے۔ سو اس جلسے میں بھی انہوں نے نوازشریف کی تعریف میں جو کچھ کہا جا سکتا تھا کہااور بعد ازاں اپنی محبت کا مزید یقین دلانے کے لئے وہ پریس کانفرنس کی، جسے متوازن پریس کانفرنس ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔اس میں اتنے جھول رہ گئے اور اتنی خلاف حقائق باتیں نظر آئیں، جن کی ایک ایسے رہنما سے توقع نہیں کی جا سکتی جو سیاسی نزاکتیں بھی سمجھتا ہے اور قومی مفاد کی ضرورتیں بھی۔ اب اس بات کو کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ فوج نے جتنی جنگیں لڑیں، سب میں شکست کھائی، کون سا ملک ہے جو اپنی شکست کو تسلیم کرتا ہے۔ ہم تو جانتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج کی بزدلانہ کارکردگی پر خود بھارت میں اس پرکتنی تنقید ہوئی تھی۔جب جنگ بندی ہوئی تھی تو ہمارا کم علاقہ بھارتی فوج کے پاس تھا، جبکہ ہم کئی جگہوں سے بھارت میں داخل ہو چکے تھے۔ ویسے بھی اگر آپ کسی جرنیل پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو اس کی پالیسی پر کریں، اپنی فوج کا مورال ڈاؤن کرنے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ جن سپاہیوں نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر قربانیاں دیں، ان کے کردار کو فراموش کرکے آپ پوری فوج کو ایک شکست خوردہ فوج کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ آج یہ بات کررہے ہیں، جب قومی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دس برسوں سے ملک میں جمہوریت ہے اور لاتعداد مواقع ملنے کے باوجود فوج نے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کیا۔ملک اگلے انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور تمام ادارے اس کے لئے یکسو ہیں۔نوازشریف تو تاحیات نااہل ہونے کے باعث کشتیاں جلا چکے ہیں اور یہ کہہ چکے ہیں کہ اب ان کا اپنا بیانیہ تبدیل کرنا ممکن نہیں، لیکن جاوید ہاشمی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں اُن سے دو ہاتھ آگے چلے گئے، نواز شریف نے تو آج تک اتنی احتیاط کی ہے کہ کسی جرنیل کا نام تک نہیں لیا۔ خلائی مخلوق کا صیغہ استعمال کیا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس نزاکت کو سمجھتے ہیں۔اس کے برعکس جاوید ہاشمی تو جنرل راحیل شریف، جنرل اشفاق پرویز کیانی اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کا ذکر کرکے تنقید کرتے رہے،پھر اُن کا یہ جملہ تو کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں کہا جاسکتا کہ تنخواہ بھی ہم سے لیتے ہو اور حکمرانی بھی ہم پر کرتے ہو۔۔۔ پھر یہ کہنا کہ آپ کو سول وزیراعظم کے سامنے سلیوٹ کرنا پڑے گا۔کون سا چیف آف آرمی سٹاف ہے، جو وزیراعظم کو سلیوٹ نہیں کرتا۔ ایسی لفاظی کو اتنے حساس معاملات میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اب یہ کہنا کہ سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو فوج نے چلنے نہیں دیا۔ خلاف حقائق بات ہے۔خود وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب یہ بیان دے چکی ہیں کہ وزیر اعظم نے پریس کانفرنس نہیں کی، بلکہ وہ پریس بریفنگ تھی،جسے ٹیلی کاسٹ کرنا مقصود نہیں تھا۔۔۔یہ درست ہے کہ جاوید ہاشمی سنیارٹی کے لحاظ سے بزرگ ترین سیاست دانوں کی صف میں شامل ہیں، اُن پر نہ تو کسی نے ہاتھ ڈالنا ہے، اور نہ روکنا ہے، اُن پر غداری کا الزام بھی کوئی نہیں لگا سکتا اور نہ یہ شک کرسکتا ہے کہ وہ ملکی مفادات کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں، لیکن کیا یہ سب آزادیاں انہیں اس لئے ملی ہیں کہ وہ ایسے بیانات دیں، جن سے غیروں کو خوشی ہو، کیا وہ فوج کو غاصب اور قابض ثابت کرکے پاکستان کی خدمت کررہے ہیں، کیا انہیں اس موقع پر جب ایک کشیدہ فضا جنم لے رہی ہے، اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے یا اس پر تیل ڈالنا چاہئے؟ نواز شریف کو تو اُن کے قریبی ساتھی یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ محاذ آراٹی کا راستہ ترک کردیں، لیکن جاوید ہاشمی نواز شریف سے بھی بڑھ کر محاذ آرائی کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہیں اپنے فیصلے پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔ مسائل غصے بھری پریس کانفرنسوں سے حل نہیں ہوتے، اس کے لئے تدبر، بصیرت اور صبر و تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ چیزیں ہمارے قومی منظر نامے سے غائب ہوتی جارہی ہیں، جو بڑی تشویشناک بات ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں