نواز شریف پر جوتے سے حملہ کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ وہ اب کہاں ہیں؟ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ان کے ساتھ اب کیا ہو رہا ہے؟ انتہائی افسوسناک خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

  بدھ‬‮ 14 مارچ‬‮ 2018  |  22:03

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف پر جوتا پھینکنے والے ملزمان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟ جب جامعہ نعیمیہ میں سابق وزیراعظم پر جوتا پھینکا گیا تو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، ان ملزمان پر گڑھی شاہو تھانے میں لیگی کارکنوں نے حملہ کیا تو انہیں ریس کورس منتقل کر دیا گیا، اب ان ملزمان کو ریس کورس سے بھی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینکنے والے شخص کے خلاف باقاعدہ مقدمہ اکبر نامی

اے ایس آئی کی مدعیت میں تھانہ گڑھی شاہو میں درج کیا گیا، اس ایف آئی آر میں جوتا پھینکنے والے شخص سمیت تین افراد پر سولہ ایم پی او، 506 اور 355 دفعات کا اندراج کیاگیا ہے، ایف آئی آر میں مدعی اکبر نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جیسے ہی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرنے کے لیے ڈائس پر آئے تو قریب کھڑے ایک شخص علامہ حافظ منور نے جوتا نواز شریف کی طرف پھینکا جو ان کے بائیں کندھا پر جا کر لگا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی سی آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ گرفتار تینوں ملزمان سے ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے اور اس سلسلے میں دیے گئے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء پرریاستی ظلم و تشدد کی وجہ سے جوتا پھینکاتھا۔دریں اثنا سابق وزیراعظم نواز پر لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں تقریب کے دوران ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جو ان کے سینے پر جالگا۔گڑھی شاہو میں سابق وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب میں شریک ہوئے اور جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالاجو مائیک پر لگنے کے بعد ان کے کاندھے سے رگڑ کھاتا ہوا نیچے جا گرا تھا۔ جوتا اچھالنے والے شخص کو وہاں موجود افراد نے پکڑ لیا  جسے تقریب سے باہر لے جانے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف صورتحال پر سخت پریشان ہیں اور فوراً اپنی رہائش گاہ روانہ ہو گئے۔تقریب کے دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں