امریکی سفیر کوملک بدر کرنے کی تجویز،پاکستان نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف بڑا قدم اُٹھالیا

  جمعرات‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2017  |  22:21

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے امریکی صدر کے سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اپنا سفارتخانہ منتقل کر نے کے فیصلے کو واپس لے جبکہ اراکین قومی اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر نے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان ممالک کو متحدہ ہو کر امریکہ جو اب دینا چاہیے ٗتمام مسلمان ممالک امریکہ سفیروں کو ملک بدر کریں ٗ امریکی صدر کا فیصلہ تیسری جنگ عظیم

کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ٗ حکومت پاکستان امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کرے ۔ جمعرات سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی اقدام کے خلاف او آئی سی کو فوری طور پر متحرک کرے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کے اس فیصلے کو واپس لے۔ قرار داد کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ اسلامی تاریخ کا سیاہ دن ہے ٗ امریکی سفارتخانے کے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔ مسلمان ممالک انتشار کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف اتحاد بنا رہے ہیں جس کا فائدہ اسلام دشمن اٹھا رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ اقدام اسرائیل کے غیر قانونی قبضہ کی توثیق کے مطابق ہے۔ ہم اس معاملے پر متحد ہیں اور ہم سب کا نکتہ نظر ایک ہے۔ اس اقدام سے امن عمل تباہ ہوگیا ہے ٗاس اقدام سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی۔ امریکہ سے دوستی بڑھانے والے مسلمان ممالک کا موقف بھی دیکھنا ہوگا۔ ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے ٗتحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر ہمارا اتفاق رائے ہے‘ مغربی ممالک بھی امریکہ کے اس اقدام کے مخالف ہیں۔ اس حوالے سے او آئی سی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ مسلم ممالک کو اس اقدام پر شدید خدشات ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے صحیح فیصلہ کیا اور اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ یہ امریکی فیصلہ ہمیں کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔وفاقی وزیر مولانا امیر زمان نے کہا کہ امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس فیصلے سے فلسطینوں کی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اقوام متحدہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکتا لیکن مشرقی تیمور‘ لیبیا‘ عراق اور مسلمانوں کے دوسرے علاقوں کے خلاف قراردادوں پر فوری عمل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔ پوری دنیا نے امریکہ کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس فیصلے سے امریکہ نے مظلوم اور مسلمان دشمنی کا اعلان کردیا ہے۔ ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان متحد ہو جائیں۔ امریکی صدر کا فیصلہ امن کے لئے خطرہ ہے اس کو واپس لے۔ تمام مسلمان ممالک اپنے ممالک سے امریکہ کے سفراء کو نکال دیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کو تیل کی فراہمی بند کردی جائے۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے نے پوری دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان‘ ترکی ‘ انڈونیشیا ‘ عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی دنیا کی قیادت سنبھالے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی لیڈر سردار غوث بخش مہر نے کہا کہ مسلمان ممالک کو امریکی فیصلے کے خلاف سخت ردعمل دکھانا ہوگا تاکہ اسے علم ہو سکے کہ اس معاملے پر تمام مسلمان اکٹھے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی اسلام دشمن کا ایک اور ثبوت دے دیا ہے لیکن اس فیصلے سے پوری امت مسلمہ متحد ہو جائے گی۔چین‘ روس اور یورپی یونین کی طرف سے اس معاملے پر ردعمل قابل تعریف ہے۔ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف پاکستان کے عوام کی طرف سے سخت ردعمل سے آگاہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں پاکستان کو آگے بڑھ کر اپنا موقف دینا چاہیے اور امریکہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ جب تک موجود ہے پاکستان محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ امریکی صدر کا فیصلہ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو اب متحد ہو جانا چاہیے۔مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ محمد اعجاز الحق نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کے بعد مسلمانوں کا امتحان آگیا ہے کہ وہ اس وقت بھی متحد ہو سکتے ہیں کہ نہیں‘ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں سب سے بڑی ریاستی دہشتگردی ہو رہی ہے‘ عراق ‘ لیبیا‘ افغانستان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مذمت کرنے اور قرارداد منظور کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر قائدانہ کردار ادا کرے‘ حکومت تمام جماعتوں اور علماء کرام کی مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں اس سے پوری امت مسلمہ متاثر ہوئی ہے اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔فاٹا سے رکن قومی اسمبلی غازی گلاب جمال نے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے ٗ یہ صرف مسلمان کا نہیں بلکہ مستقبل میں پوری دنیا کے لئے مسئلہ بنے گا۔ اس سے جذبات مزید بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تمام جماعتوں نے ایوان میں یکجہتی دکھاتے ہوئے متفقہ قرارداد پاس کی اسی طرح تمام جماعتیں اس معاملے میں ایوان سے باہر بھی یکجہتی دکھائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن محمود بشیر ورک نے کہا کہ امریکی قانون کے مطابق صدر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اتنے بڑے فیصلے کرسکے۔ لیبیا‘ شام ‘ عراق کے ساتھ جو ہوا ہے پاکستان بھی اسی دائرے میں ہے ٗہمیں مل کر اس حوالے سے جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ کوئی آسان مسئلہ نہیں ہے اس کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ہماری صورتحال بہت نازک ہے ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو غیر ریاستی عناصر سے بچانا ہوگا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں