ختم نبوت قانون میں ترمیم،تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ مکمل،غلطی کس کی تھی؟حیرت انگیزانکشاف‎

  بدھ‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2017  |  19:33

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ختم نبوت قانون میں ترمیم پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے، تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے تین اجلاسوں کے بعد اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے، تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے وزیر قانون زاہد حامد نے ختم نبوت قانون میں ترمیم پر غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ نادانستگی میں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جوکے سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانامہ کیس فیصلے کے مطابق نا اہل قرار دے دئیے گئے تھے جس کی

بدولت مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی اس فیصلے کے بعد ہٹ چکے تھے کیونکہ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی نا اہل شخص کسی پارٹی کاصدر نہیں بن سکتا نواز شریف کو دوبارہ ن لیگ کا صدر بنانے کیلئے حکومت نے انتخابی اصلاحات بل کے لانے کا فیصلہ کیا اور اس بل کو سینٹ کے بعد قومی اسمبلی سے پاس کرا کر صدر مملکت کے بل پر دستخطوں کے بعد آئین کا حصہ بنا دیاگیا ۔ ان دنوں پورے ملک میں یہ بحث جاری ہے آئین میں الیکشن میں حصہ لینے کیلئے کسی بھی مسلم امیدوار کو پہلے عقیدہ ختم نبوت پر حلف اٹھانے یا قسم کھانے کا پابند بنایا گیا تھا جبکہ اس نئے بل کے آنے کے بعد اس حلف نامے یا قسم کھانے کے طریقہ کار کر تبدیل کر دیا گیا ہے جس سے ملک میں بے چینی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔ اس ترمیم کی وجہ سے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کسی بھی مسلم امیدوار کو عقیدہ ختم نبوت پر حلف اٹھانے یا قسم کھانے کی ضرورت نہیں بلکہ امیدوار کو صرف اقرار کر نا پڑے گا، وفاقی حکومت نے نئے الیکشن قانون 2017 میں امیدوار کے لئے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے میں حلف نامہ یا قسم اٹھانے کے الفاظ کو ختم کرکے ان کو اقرار نامہ کے الفاظ میں تبدیل کر دیا۔ ایک نئی ترمیم کے بعد ختم نبوت قانون کو دوبارہ بحال کر دیا گیا، اس حلف کو کیوں حذف کیا گیا اس پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی جس نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں