ملک کو منصوبوں کا قبرستان نہ بنائیں

  منگل‬‮ 1 جنوری‬‮ 2019  |  0:01

آپ پاکستان کڈنی اینڈ لیورانسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کی مثال بھی لے لیجئے‘ پاکستان میں چالیس فیصد بیماریاں گردوں‘ جگر‘ مثانے‘ پتے اور پراسٹیٹ سے متعلق ہیں‘ ملک کے ایک کروڑ سے زائد لوگ ہیپا ٹائٹس سی اور 50 لاکھ ہیپا ٹائٹس بی کے مریض ہیں گویا ملک کا ہر بارہواںفرد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے‘ہیپاٹائٹس کے ہاتھوں لوگ مر رہے تھے‘ لوگ مر رہے ہیں اور لوگ شاید اسی طرح مرتے رہیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ ملک میں گردے اور جگر کے سرکاری ہسپتال موجود نہیں ہیں‘

بیس کروڑ لوگوں کے اس ملک میں لیور ٹرانسپلانٹ کا ایک بھی ہسپتال نہیں‘ ملک میں پراسٹیٹ‘ مثانے‘ پتے اور پنکریاکے کینسر کی سرجری بھی ممکن نہیں‘ ملک کے چند فائیو سٹار پرائیویٹ ہسپتال یہ سہولت فراہم کرتے ہیں

لیکن اس کےلئے ڈاکٹر اور طبی عملہ باہر سے آتا ہے‘ یہ دس پندرہ آپریشن کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں چنانچہ یہ علاج انتہائی مہنگا ثابت ہوتا ہے‘ جس مریض کی جیب میں پچاس ساٹھ ستر لاکھ روپے ہوں صرف وہ شخص ان ہسپتالوں میں جا سکتا ہے جبکہ باقی مریضوں کے پاس موت یا پھر سسک سسک کر زندہ رہنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا‘ پاکستان سے ہر سال سینکڑوں مریض لیور ٹرانسپلانٹ کےلئے بھارت اور چین بھی جاتے ہیں‘ چین میں لیور ٹرانسپلانٹ پر 70 لاکھ جبکہ بھارت میں 60 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں‘ صوبائی حکومتیں ہر سال غریب مریضوں کو علاج کےلئے چین اور بھارت بھجواتی ہیں ‘ ان پرسالانہ کروڑوں اور بعض اوقات اربوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں‘ پنجاب حکومت نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے 2016ءمیں ملک کا پہلا کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا‘ اس ہسپتال کے تین مقاصد تھے‘ غریب مریضوں کا مفت علاج‘ ڈاکٹروں‘ سرجنوں اور طبی ماہرین کی ٹریننگ اور گردے‘ جگر اور مثانے کی بیماریوں کے بارے میں آگاہی۔ یہ ساڑھے انیس ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ تیرہ لاکھ سکوائر فٹ کی گیارہ منزلہ عمارت بننی تھی‘ جدید ترین آلات خریدے جانے تھے‘

یورپ اور امریکا سے سرجن اور طبی عملہ آنا تھا اور پاکستان میں چالیس فیصد امراض کا علاج شروع ہو جانا تھا‘ نومبر 2016ءمیں عمارت کی تعمیر شروع ہوئی‘ نومبر 2018ءمیں یہ منصوبہ مکمل ہو جانا تھا لیکن پھر وہی ہوا‘ ساڑھے پندرہ ارب روپے خرچ ہو گئے‘ نوے فیصد کام ہو گیااور نیب نے فروری 2018ءمیں احد چیمہ کو گرفتار کر لیا جس کے بعد بیورو کریسی نے کام کرنا بند کر دیا‘ سپریم کورٹ میںبھی سماعتیں شروع ہو گئیں‘ میاں شہباز شریف ابھی وزیراعلیٰ تھے‘

انہوں نے زور لگایا اور جیسے تیسے گردوں کے دو آپریشن تھیٹر مکمل ہو گئے جبکہ لیور ٹرانسپلانٹ کے تھیٹر اور آلات تاحال زیر تعمیر ہیں‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بہت کوشش کر رہے ہیں لیکن کام کی سپیڈ بہت سست ہے‘کیوں؟ کیونکہ یہ ادارہ نئی حکومت اور بیورو کریسی کی ترجیحات کی فہرست میں شامل نہیں چنانچہ یہ منصوبہ بھی اب کالاباغ ڈیم بنتا جا رہا ہے‘ سرکار کے اب تک سولہ ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں‘ لیور ٹرانسپلانٹ کے آلات امریکا میں پڑے ہیں‘ کوئی افسرا نہیں لانے اور لگانے کا رسک لینے کےلئے تیار نہیں‘

بیوروکریسی کا خیال ہے ہم میں سے جو شخص یہ آلات لائے گا یا لگائے گا اس کی فائل بھی کھل جائے گی‘ وہ بھی نیب کے کیس بھگتے گا‘ سرجن بھی لیورٹرانسپلانٹ کےلئے تیار نہیں ہیں‘ یہ کہتے ہیں پی کے ایل آئی لائم لائیٹ میں آ چکا ہے‘ اب اگر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوتا تو ہم پھنس جائیں گے چنانچہ ملک میں موجود کوئی سرجن لیور ٹرانسپلانٹ کےلئے تیار نہیں‘ ڈاکٹر سعید اختر کا حشر پوری دنیا نے دیکھ لیالہٰذا باہر سے بھی کوئی ڈاکٹر اور سرجن نہیں آ رہا‘

غیر ملکی ڈاکٹرز اب اپنے مریضوں کو دوبئی‘ شارجہ یا استنبول بلوا تے ہیں‘ یہ ای سی ایل کے خوف سے ملک میں قدم نہیں رکھتے چنانچہ ہم نے اس احتساب سے کیا حاصل کر لیا؟ پی کے ایل آئی ملک کا سب سے بڑا ہسپتال اور میڈیکل انسٹی ٹیوٹ تھا‘ وہ رک گیا‘ قوم کے سولہ ارب روپے ضائع ہو گئے‘ بیورو کریسی نے فیصلے کرنا بند کر دیئے اور ایک کروڑ سے زائد مریضوں کی امید ٹوٹ گئی‘ ہم نے آخر کیا حاصل کیا؟ہم اگر آج اس منصوبے کو دوبارہ مکمل کرنا چاہیں تو ہمیں کم از کم ایک سال اور مزید پانچ ارب روپے چاہئیں‘ اس دوران دو چار ہزارمریض مزید مر جائیں گے لہٰذا کیا فائدہ ہوا؟۔

آپ اورنج لائین ٹرین منصوبے کو بھی لے لیجئے‘ لاہور کی آبادی اس وقت ایک کروڑ 11 لاکھ ہے‘ ان میں سے آدھے لوگ (پچپن لاکھ) روز کام‘ تعلیم اور خریداری کےلئے گھروں سے باہر نکلتے ہیں‘ لاہور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر تھا جس کے شہری پبلک ٹرانسپورٹ کے بغیر زندگی گزار رہے تھے‘ 2013ءمیں میٹرو لاہور مکمل ہوئی لیکن اس کے باوجود شہر کو ٹرانسپورٹ کی مزید ضرورت تھی چنانچہ 164 ارب روپے سے اکتوبر 2015ءمیں اورنج لائین منصوبہ شروع ہوا اور یہ 31 دسمبر 2017ءکو مکمل ہونا تھا‘

یہ پاکستان کی پہلی انٹر سٹی ٹرین تھی‘ آپ کو یہ ٹرینیں دوبئی سمیت دنیا کے بے شمار بڑے شہروں میں ملتی ہیں لیکن پھر یہ ایشو عدالتوں میں دھکے کھانے لگا‘ اس کے دو نتائج نکلے‘ منصوبے کی لاگت 164 ارب روپے سے 240 ارب روپے ہو گئی اور یہ 18 ماہ تاخیر کا شکار بھی ہو گیا‘ یہ منصوبہ بھی اس وقت کالاباغ ڈیم بن چکا ہے‘ یہ اس وقت پنجاب حکومت اور بیورو کریسی دونوں کی ترجیح نہیں‘ ٹرینیں کھڑی کھڑی خراب ہو رہی ہیں‘ ٹھیکیداروں کو پے منٹس نہیں ہو رہیںاور چین کی کمپنیاں اور حکومت بھی کنفیوژ ہے‘

عثمان بزدار یہ منصوبہ مکمل نہیں کرنا چاہتے‘یہ سمجھتے ہیں یہ کریڈٹ میاں شہباز شریف کو چلا جائے گا‘ سرکاری افسر بھی ہاتھ نہیں ڈال رہے اور ٹھیکیدار بھی مزید سرمایہ خرچ کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں چنانچہ یہ منصوبہ بھی کھوہ کھاتے جا رہا ہے‘ مجھے یقین ہے ہمیں سال ڈیڑھ سال بعد اورنج لائین مکمل کرنے یا پھر اس کا دائرہ کار بڑھانے کا جوش اٹھے گا لیکن اس وقت تک یہ منصوبہ چار سو ارب روپے تک بھی پہنچ چکا ہو گا اور ٹرینوں کے تمام آلات بھی گل سڑ چکے ہوں گے‘

یہ صرف دو مثالیں ہیں‘ آپ اگر تحقیق کریں گے تو آپ کو ایسی درجنوں مثالیں مل جائیں گی‘ ہم نے ایوب خان کے دور میں کراچی میں زیر زمین ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا تھا‘ کھدائیاں تک ہو چکی تھیں‘ ہم نے اس ٹرین کے چکر میں انگریزوں کی ٹرام سروس تک بند کر دی تھی لیکن پھر ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا اور زیر زمین ٹرین کو فضول خرچی قرار دے کر بند کر دیا گیا‘ ٹرین کےلئے کھودے گئے نالوں میں پانی بھرا اور یہ گجر نالے بن گئے‘ مشینری کباڑ میں فروخت ہوئی اور اس کے ساتھ کروڑوں روپے ہوا ہو گئے اور یوں کراچی ماس ٹرانسپورٹ کے بغیر دنیا کا واحد میٹرو پولیٹن شہر بن گیا‘

ہم نے کالاباغ ڈیم 1960ءکی دہائی میں شروع کیا‘ یہ پہلے 1970ءکی دہائی میں گیا اور پھر 1980ءکی دہائی میں چلا گیا‘ یہ آج تک نہیں بن سکا‘ آپ کسی روز کالاباغ جا کر دیکھیں‘ آپ کو ڈیم کی سائٹ مشینری کا قبرستان دکھائی دے گی‘ حکومت 50 سال میں یہ ڈیم نہیں بنا سکی‘ یہ ایک نقصان ہے‘ دوسرا نقصان ہم ہر سال کرتے ہیں‘ ہم ہر سال سائٹ اور مشینری کی حفاظت پر کروڑوں روپے خرچ کر تے ہیں‘ آپ ایک اورمثا ل لیجئے‘پاکستان بجلی کی ٹرین چلانے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک تھا‘

صدر ایوب خان کے دور میں خانیوال سے لاہور تک بجلی کی تاریں بھی بچھائی گئیں تھیں اور ٹرین بھی چلائی گئی تھی‘ یہ ٹرین 25 سال چلتی رہی لیکن پھر وہ ٹرین بھی بند ہوگئی اور اس کی تاریں اور جنریٹر بھی چوری ہو گئے‘ ہم اگر اب وہ تاریں دوبارہ بچھانا چاہیں یا بجلی کی ٹرین چلانا چاہیں تو ہمیں کم از کم ہزار ارب روپے چاہئیں لہٰذاہم مانیں یانہ مانیں ہم منصوبوں کا قبرستان ہیں‘ آپ کراچی کے بیچ ایریاز سے لے کر مالم جبہ کے سکی ریزارٹ تک پورے ملک کا دورہ کر لیں‘ آپ کو ہر دوسرے شہر میں سرکاری منصوبوں کے قبرستان ملیں گے‘

یہ منصوبے شروع ہوئے‘ ادارے کا سربراہ تبدیل ہوا یا پھر حکومت بدل گئی اور پھر اربوں روپے کا منصوبہ اپنی لاگت سمیت زمین میں دفن ہو گیا‘ آپ کو موٹر وے کی کہانی بھی یاد ہو گی‘ میاں نواز شریف نے 1992ءمیں موٹروے شروع کی‘ 1993ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی‘ نئی حکومت نے راولپنڈی لاہور کے علاوہ موٹرویز کے باقی تمام منصوبے بند کر دیئے ‘ زیر تعمیر لینزبھی تین سے دو کر دی گئیں‘ کیا نتیجہ نکلا؟تیس چالیس ارب روپے کا منصوبہ دو چار سو ارب روپے تک پہنچ گیا ‘ ہم آج 26برس بعد بھی پورے ملک کو موٹرویز سے نہیں جوڑ سکے‘ نقصان کس کا ہوا؟قوم کا۔

میری سپریم کورٹ اور ملک کے مقتدر اداروں سے درخواست ہے ہمیں اب ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں کوئی نہ کوئی نیشنل پالیسی بنا لینی چاہیے‘ ہم ایک نیشنل بورڈ کیوں نہیںبنا لیتے؟ اس بورڈ میں صدر بھی ہو‘ وزیراعظم بھی‘ وزرائے اعلیٰ بھی‘ آرمی چیف بھی‘ چیف جسٹس بھی اور ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی‘ ملک کے تمام بڑے منصوبے اس بورڈ میں پیش ہوں اور بورڈان کی منظوری دے‘ منظوری کے بعد خواہ حکومتیں یا سارے عہدیدار تبدیل ہو جائیں لیکن یہ منصوبے ہر صورت اپنی تاریخ پر مکمل ہوں ‘

میری یہ بھی درخواست ہے ملک میں جب تک کوئی منصوبہ مکمل نہ ہو جائے اس وقت تک اس کا کوئی آڈٹ نہیں ہونا چاہیے‘ نیب ہو‘ ایف آئی اے ہو یا پھر اینٹی کرپشن کے ادارے ہوں ملک کے کسی ادارے میں دوران تکمیل ان منصوبوں کی کوئی فائل نہیں کھلنی چاہیے‘ یہ منصوبے اگر ایک بار مکمل ہو جائیں تو آپ خواہ تمام لوگوں کو پھانسی دے دیں‘ کوئی شخص اعتراض نہیں کرے گا لیکن آپ ملک کو منصوبوں کا قبرستان نہ بنائیں‘ یہ ملک‘ لوگوں اور اداروں کے ساتھ زیادتی ہے اور ہمیں کم از کم احتساب کے نام پر یہ زیادتی نہیں کرنی چاہیے چنانچہ نیشنل بورڈ بنا دیں تاکہ ایک قدم آگے اور دس قدم پیچھے کی یہ روش ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے‘پاکستان ترقی کرے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں