میں ابن عربی تک پہنچ گیا

  جمعہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2017  |  0:01

دمشق کی ایک سائیڈ پر جبل قاسیون ہے‘ یہ پہاڑ یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے‘ حضرت ہابیل اور قابیل کے درمیان لڑائی اسی پہاڑ پر ہوئی تھی‘ جبل قاسیون میں آج بھی وہ غار موجود ہے جس میں قابیل نے پتھر مار کر ہابیل کو قتل کر دیا تھا‘ حضرت آدم ؑ کے دونوں بیٹوں کے درمیان خاتون کےلئے لڑائی ہوئی تھی‘ دونوں ایک ہی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی منت

قبول کر لی لیکن رقابت ایسا خوفناک جذبہ ہوتا ہے جو حکم الٰہی کو بھی نہیں مانتا چنانچہ حضرت ہابیل جب جبل قاسیون کے ایک غار میں آرام فرما رہے تھے تو قابیل آیا‘ پتھر اٹھایا اور حضرت ہابیل کے سر پر دے مارا‘ آپ انتقال کر گئے‘ قابیل نے اس کے بعد ہابیل کی لاش اٹھائی اور جبل قاسیون پر مارا مارا پھرنے لگا‘ کوے نے مدد کی‘ زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا‘ قابیل کو آئیڈیا مل گیا‘ اس نے بھی زمین کھودی اور حضرت ہابیل کو دفن کر دیا‘ ہابیل اور قابیل کی لڑائی کا غار اور حضرت ہابیل کا مزار یہ دونوں آج تک سلامت ہیں‘ غار ”خونی غار“ کہلاتا ہے‘ یہ جبل قاسیون کی چوٹی پر ہے‘ غار میں آج بھی وہ پتھر موجود ہے جس سے قابیل نے ہابیل کا سر کچلا تھا‘ غار کی چھت سے قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہتا ہے‘ لوگوں کا خیال ہے غار ہزاروں سال سے حضرت ہابیل کے قتل پر آنسو بہا رہا ہے‘ حضرت ہابیل کا آلہ قتل بظاہر ڈیڑھ دو کلو گرام کا چھوٹا سا پتھر ہے لیکن یہ خاصا بھاری ہے‘ آپ اسے آسانی سے اٹھا نہیںسکتے‘یہ غار انبیاءکرام اور اولیاءاللہ میں بہت مقبول رہا‘ حضرت ذکریا ؑ‘ حضرت یحییٰ ؑ‘ حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ بھی یہاں قیام فرما چکے ہیں اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بھی۔اس غار میں چالیس اولیاءکرام اور عیسائی سینٹ بھی تشریف لا چکے ہیں‘ حضرت ہابیل کا مزار جبل قاسیون کے ایک کونے میں پہاڑ کی چوٹی پر قائم ہے‘ مزار کی

دوسری طرف گہری کھائی ہے اور کھائی کے آخر میں زبدانی کا قصبہ ہے‘ دمشق کو پانی زبدانی سے سپلائی ہوتا ہے‘ یہ علاقہ مری سے ملتا جلتا ہے‘درخت بلند ہیں‘ پہاڑی چشموں کی بہتات ہے اور فضا میں ایک طراوت‘ ایک خوشبو پائی جاتی ہے‘ یہ علاقہ چند ماہ پہلے تک دہشت گردوں کے

قبضے میں تھا‘ باغیوں نے چند دنوں کےلئے دمشق کا پانی بھی بند کر دیا تھا لیکن یہ اب واپس حکومت کے قبضے میں آ چکا ہے‘ حضرت ہابیل کی قبر عام قبروں سے لمبی ہے‘ یہ ان کے قدآور ہونے کی نشاندہی کرتی ہے‘

حکومت نے مزار کو بچانے کےلئے وہاں فوجی چوکی بنا دی ہے‘ چوکی پر دو توپین سر اٹھا کر کھڑی ہیں۔میں حضرت ابوہریرہؓ ‘ حضرت امیر معاویہؓ ‘ طارق بن زیاد‘ابن تیمیہؒ‘ ابن کثیرؒ‘ ابن عساکرؒ اور حضرت محی الدین ابن عربیؒ کے مزارات پر بھی حاضری دینا چاہتا تھا‘ مجھے حضرت ابوہریرہؓ کا مزار نہیں مل سکا‘ یہ سوق حمیدیہ کی کسی گلی میں تھا لیکن لوگ اس سے واقف نہیں ہیں‘ حضرت امیر معاویہؓ مسجد امیہ کے احاطے میں مدفون ہوئے‘ عباسیوں نے دمشق کی فتح کے بعد ان کے مزار کی تمام نشانیاں مٹا دیں‘

یہ اب مسجد کے صحن کے کسی حصے میں آرام فرما رہے ہیں‘ میں وہ حصہ تلاش نہیں کر سکا‘ باب صغیر میں بھی ان کے نام سے ایک مزار منسوب ہے‘ مزار کے تمام دروازے صدیوں سے مقفل ہیں‘ مزار کی دیواروں پر بھی بڑی بڑی زنجیریں چڑھی ہیں جبکہ ان کے نام سے ایک مزار مسجد امیہ کے مشرقی مینار کی سیدھ میں گلی میں بھی موجود ہے‘ مزار پر لکڑی کا چھوٹا سا گنبد بنا ہے‘ یہ مزار بھی ہمہ وقت بند رہتا ہے‘ مجھے یہ مقامات دیکھنے کا اتفاق ہوا‘

حافظ ابن عساکرؒ نے دمشق کی پہلی تاریخ لکھی تھی‘ یہ تاریخ 80 جلدوں پر مشتمل تھی‘ یہ اپنے دور کے عظیم عالم‘ مورخ اور محدث تھے‘ ان کا مزار سڑک کی توسیع کا شکار ہو چکا ہے‘ یہ مزار باب صغیر کے قریب کسی سڑک کے درمیان میں واقع ہے‘ میں بدقسمتی سے اسے تلاش نہیں کر سکا‘ ابن تیمیہؒ اور ابن کثیرؒ دونوں علم کے سمندر تھے‘ یہ ہزار سال سے دنیا بھر کے عالموں کو متاثر کر رہے ہیں‘ یہ دونوں استاد شاگرد تھے‘ یہ دونوں مقابر الصوفیہ میں مدفون ہوئے‘

مقابر الصوفیہ کبھی دنیا کا عظیم قبرستان ہوتا تھا‘ دنیا کے بے شمار نامور صوفیاءکرام اس قبرستان میں مدفون ہوئے لیکن آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجئے یہ قبرستان دمشق یونیورسٹی کی توسیع کا لقمہ بن گیا‘ یونیورسٹی کی توسیع ابن تیمیہؒ اور ابن کثیرؒ کی قبروں کو بھی نگل گئی‘ابن کثیرؒ انتقال کے بعد اپنے استاد ابن تیمیہؒ کے پاﺅں میں دفن ہوئے تھے‘ حکومت نے ان کی قبریں بچا لیں لیکن یہ قبریں یونیورسٹی کے کسی گم نام گوشے میں گم نام ہو کر رہ گئیں‘میری اطلاع کے مطابق یہ قبریںیونیورسٹی کے کسی ہسپتال کے پچھواڑے میں ہیں‘

یہ کہاں ہیں دمشق کا کوئی شخص نہیں جانتا‘ میں نے بہت کوشش کی لیکن میں ان کی قبروں تک نہیں پہنچ سکا مگر میں ڈھیٹ شخص ہوں‘ میں ان شاءاللہ دوبارہ دمشق جاﺅں گا اور ابن تیمیہؒ اور ابن کثیرؒ دونوں کو تلاش کر کے رہوں گا‘ فاتح سپین طارق بن زیاد بھی دمشق میں فوت ہوئے تھے‘ یہ بادشاہ کے عتاب کا نشانہ بنے اور نہایت ابتر حالت میں انتقال فرمایا‘ ان کا مزار باب توما کے قریب تھا‘ توما حضرت عیسیٰ ؑ کے بارہ حواریوں میں شامل تھے‘ ان کا پورا نام سینٹ تھامس اور عرفیت توما تھی‘

یہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آسمانوں پر روانگی کے بعد پہلے شخص تھے جو رومی سلطنت سے باہر نکل پائے‘ یہ دمشق آئے‘ یہاں سے ایران اور افغانستان گئے اور وہاں سے پنجاب آگئے‘ دمشق کے عیسائیوں نے شہر کا مشرقی دروازہ ان کے نام منسوب کر دیا‘ یہ اب باب توما کہلاتا ہے‘ فتح شام کے وقت حضرت خالد بن ولیدؓ بھی اسی دروازے سے دمشق میں داخل ہوئے تھے‘ حضرت خالد بن ولیدؓ نے باب توما کے باہر اپنے نام سے ایک مسجد بھی بنوائی تھی‘ مسجد کے گرد حضرت عثمان الثقفیؓ‘ حضرت شرہبیلؓ‘ حضرت ضرارؓ ‘ حضرت خولہؓ اور طارق بن زیاد کے مزارات تھے‘

میں کوشش کے باوجود یہ مزارات تلاش نہ کر سکا‘ دمشق کے عیسائیوں کا خیال ہے حضرت عیسیٰ ؑ مسجد امیہ کے سفید مینار کی بجائے باب توما کے سفید مینار پر اتریں گے‘ میں نے غور سے دیکھا تو باب توما پر بھی ایک سفید مینار موجود تھا‘ مینار کی ایک سائیڈ پر تین اور دوسری سائیڈ پر دو کھڑکیاں تھیں‘ یہ مینار بھی صدیوں سے بند چلا آ رہا ہے‘ میں اس مینار پر بھی نہیں چڑھ سکا لیکن ان شاءاللہ اگلی بار سہی‘ مجھے یقین ہے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے سینکڑوں سال قبل دنیا سے رخصت ہو چکا ہوں گا لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں میں اس چبوترے کو ہاتھ لگانے اور چومنے سے بھی محروم ہو جاﺅں جہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے قدم رنجہ فرمانا ہے‘

جہاں سے وہ اسلام کے اس دھاگے کو دوبارہ گرہ لگائیں گے جسے ہم جیسے عاقبت نااندیشوں نے توڑ دیا تھا‘ میں ان شاءاللہ دونوں میناروں پربھی پہنچوں گا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے چبوترے کو ہاتھ لگاﺅں گا۔مجھے ابن عربیؒ کے مزار تک پاکستان کے قونصل جنرل عبدالجبار ترین نے پہنچایا‘ یہ دو برس سے دمشق میں تعینات ہیں‘ ان کے بھائی ستار ترین صحافی ہیں‘ یہ ایکسپریس میں کام کرتے ہیں‘ جبار ترین جب بھی پاکستان تشریف لاتے تھے یہ مجھے ملاقات کا شرف بخشتے تھے‘

یہ دمشق کے متحرک سفارت کاروں میں شمار ہوتے ہیں‘ شامی حکومت اور زیادہ تر سفارت کار انہیں جانتے ہیں‘ ٹھیک ٹھاک عربی بول لیتے ہیں‘ یہ مجھے ہفتے کے دن حضرت ابن عربیؒ کے مزار پر لے گئے‘ یہ علاقہ جبل قاسیون کے دامن میں ہے اور یہ ابن عربیؒ کی مناسبت سے محلہ ابن عربی کہلاتا ہے‘ اسلامی تاریخ نے آج تک ابن عربیؒ جیسا دوسرا شخص پیدا نہیں کیا‘ یہ پیدائشی صوفی اور عالم تھے‘ یہ حاتم طائی کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے‘ سپین کے شہر مرسیا میں پیدا ہوئے‘

اشبیلہ میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد علم اور سلوک کی راہوں پر نکل کھڑے ہوئے‘ یہ بغداد‘ قاہرہ‘ دمشق اور ترکی گئے‘ یہ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں بھی پھرتے رہے‘ یہ دنیا کے واحد صوفی ہیں جنہیں صوفیاءکرام شیخ اکبر کہتے ہیں‘ شیخ نے پانچ سو کے قریب کتابیں تحریر کیں‘ مولانا رومؒ تک ان سے متاثر ہوئے‘ ابن رشد ان کے ہاتھ چومتا تھا‘ یہ واحد عالم ہیں جنہوں نے قرآن مجید کے حروف مقطعات کو ”ڈی کوڈ“ کیا‘ یہ صاحب کشف اور صاحب کرامات تھے‘

یہ تاریخ اسلام کے واحد کردار ہیں جنہیں آج تک کوئی شخص مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا‘ آپ ان کی کتب پڑھیں یہ آپ کو ہر بار نئے معانی‘ نئے مفاہیم کی سوغات لگیں گی‘ یہ 36 سال مغرب اور 36 سال مشرق میں گھومتے رہے‘ حضرت خضر ؑ سے ملاقات بھی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی تجلیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے‘ یہ 620ءہجری میں دمشق آئے اور آخری سانس تک اسی شہر میں مقیم رہے‘ انتقال سے پہلے پیش گوئی کی ”میری قبر گم ہو جائے گی‘ یہ اس وقت دوبارہ ظاہر ہوگی جب س ش میں داخل ہو گا“

حضرت ابن عربیؒ کی قبر واقعی گم ہوگئی‘ ترک سلطان سلیم اول نے 1516ءمیں شام فتح کیا‘ یہ جوں ہی دمشق میں داخل ہوا‘ ایک پرانے گھر کی دیوار گری اور حضرت ابن عربیؒ کا مزار ظاہر ہو گیا۔میں تنگ بازار سے ہوتا ہوا مزار تک پہنچا‘ احاطے میں داخل ہوا‘ درود پڑھتا ہوا سیڑھیوں سے اترا‘سامنے حضرت محی الدین ابن عربیؒ سبز غلاف اوڑھ کر آرام فرما رہے تھے‘ میں نے شیخ اکبر کو سلام کیا‘ ان کی قبرمبارک کا بوسہ لیا اور آہستہ سے عرض کیا ”یا شیخ میں بالآخر آپ تک پہنچ گیا “۔مجھے اچانک اپنے کندھے پرایک شفقت بھرا گرم ہاتھ محسوس ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں