ملک کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیں

  جمعرات‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2017  |  0:01

عوامی مرکز اسلام آباد کی پہلی جدید ترین عمارت تھی‘ یہ چھ منزلہ عمارت تھی اور یہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں مکمل ہوئی‘ یہ وفاقی دارالحکومت کی پہلی عمارت تھی جس میں کولنگ اور ہیٹنگ کا سینٹرل سسٹم بھی تھا اور برقی سیڑھیاں بھی تھیں‘ یہ بڑے بڑے شیشوں والی پہلی عمارت بھی تھی‘ عوامی مرکزکا مقصد عوام کو وہ تمام سہولتیں ایک چھت کے نیچے فراہم کرنا تھا جن کےلئے لوگ مختلف دفتروں میں دھکے

کھاتے ہیں چنانچہ ریلوے اور پی آئی اے سے لے کر ڈاک‘ ٹیلی فون‘ گیس‘ بجلی اور یوٹیلٹی سٹور تک تمام عوامی اداروں نے اپنے عوامی آفس یہاں کھول لئے‘ یہ سہولت صرف اسلام آباد کے شہریوں کےلئے تھی‘ میں ان دنوں تازہ تازہ اسلام آباد آیا تھا‘ میں اکثر اوقات گھر کا سودا سلف خریدنے‘ ٹیلی فون کرنے‘ ٹکٹیں بک کرانے اور بل جمع کرانے کےلئے عوامی مرکز چلا جاتا تھا‘ یہ عمارت ایک تفریح گاہ بھی تھی‘ وہاں ریستوران بھی تھے اور بچوں کے کھیلنے کےلئے پلے لینڈ بھی چنانچہ بے شمار فیملیز وہاں آ جاتی تھیں لیکن پھر اس عمارت کے ساتھ بھی وہی ہوا جو عموماً ہمارے ملک میں خوبصورت عمارتوں‘ اداروں اور محکموں کے ساتھ ہوتا ہے‘ یہ عمارت بھی ویران ہو گئی‘ شروع میں عوامی اداروں کے دفتر بند ہوئے‘ پھر یوٹیلٹی سٹور ختم اور آخر میں باقی دفاتر بھی وہاں سے شفٹ ہو گئے‘ ملک میں ان دنوں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ”بوم“ تھا‘ حکومت نے عوامی مرکز آئی ٹی کمپنیوں کے حوالے کر دیا یوں اسلام آباد کی جدید ترین عمارت آئی ٹی پارک بن گئی‘ یہ عمارت ریڈزون میں تھی‘ سامنے سیکرٹریٹ‘ وزیراعظم ہاﺅس اور ایوان صدر تھا‘ دائیں جانب پی ٹی وی اور ذرا ساہٹ کر پارلیمنٹ ہاﺅس تھا‘ بائیں جانب میریٹ اور میریٹ سے اوپر مارگلہ کی پہاڑیاں تھیں اور پشت پر بلیو ایریا تھا‘ عمارت کی لوکیشن ہرلحاظ سے آئیڈیل تھی لیکن حکومتی عدم توجہی کی

وجہ سے یہ عمارت مختلف محکموں کے پاس دھکے کھاتی رہی اور یہ آخر میں آئی ٹی پارک بن گئی‘ عمارت کے مختلف فلورز پر 40 مختلف دفاتر قائم تھے‘ ان میںوفاقی ٹیکس محتسب‘ ڈیجیٹل پراسسنگ سسٹم‘ سمارٹ آئی ایس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نیشنل پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن‘ نالج پلیٹ فارم‘ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ‘ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اورسی پیک کے دفاتر بھی شامل تھے۔اتوار دس ستمبر کی صبح عوامی مرکز کے ائیر کنڈیشنڈ پلانٹ میں آگ لگی اور آگ نے چند لمحوںمیں

فرسٹ فلور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘

فائر بریگیڈ‘ پولیس اور لوکل انتظامیہ آئی‘ آگ پرقابو پایا اور اڑھائی گھنٹے بعد اپنا کام مکمل کر کے واپس چلے گئے لیکن تھوڑی دیر بعد آگ دوبارہ بھڑک اٹھی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کی چار منزلیں اپنی لپیٹ میں لے لیں‘ اس بارفائر بریگیڈ کے ساتھ ساتھ نیوی کے جوان اور آگ بجھانے کا عملہ بھی پہنچا لیکن یہ لوگ کوشش کے باوجود آگ پر قابو نہ پا سکے اور یوں ساری عمارت جل کر تباہ ہو گئی‘ اس حادثے میں سرکاری ریکارڈ بھی راکھ بن گیا اور اربوں روپے کی پراپرٹی بھی دھواں ہو گئی‘

یہ نقصان خوفناک ہے لیکن اصل نقصان تین قیمتی جانیں ہیں‘ عمارت کا گارڈ محمد وقار دھوئیں کی وجہ سے دم گھٹ کر جاں بحق ہو گیا جبکہ دو نوجوان علی رضا اور عمراعجاز چوتھی منزل سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے انتقال کر گئے‘ یہ دونوں کال سینٹر میں کام کرتے تھے‘ یہ دونوں ایم بی اے تھے‘ علی رضا والدین کی اکلوتی اولاد تھا‘ یہ دونوں چوتھی منزل پر تھے‘ آگ لگی تو علی رضا مدد مدد پکارنے لگا‘ پولیس کے اہلکار چٹائی لے کر نیچے کھڑے ہو گئے‘پولیس اہلکاروں کا خیال تھا نوجوان چھلانگ لگائے گا‘

چٹائی پر گرے گا اور یہ اسے سنبھال لیں گے‘ نوجوان علی رضا نے چھلانگ لگادی‘ چٹائی کمزور تھی‘ یہ چوتھی منزل کی گریوٹی نہ سنبھال سکی‘ یہ پھٹ گئی اور نوجوان علی رضا پکے فرش پر گرکر ہلاک ہو گیاجبکہ دوسرا نوجوان عمر ایاز براہ راست فرش پر گر کر جاں بحق ہو گیا‘ حکومت کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات نوٹس میں آئی عمارت میں باقاعدہ ایمرجنسی راستہ موجود تھا لیکن نوجوان اس راستے سے واقف نہیں تھے چنانچہ انہوں نے بلاوجہ چھلانگ لگا کر جان دے دی‘

دوسرا عمارت میں آگ بجھانے کے آلات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سلینڈر بھی موجود تھے لیکن یہ تمام آلات سال بھر سے ایکسپائر ہو چکے تھے اور کسی نے انہیں چیک کرنے کی زحمت تک گوارہ نہ کی‘ یہ بھی نوٹس میں آیا چوتھی منزل سے کودنے والا نوجوان بھی آگ سے بچنے کے عمل سے واقف نہیں تھا اور آگ بجھانے والے بھی یہ نہیں جانتے تھے انسان اگر چوتھی منزل سے چھلانگ لگائے تو عام چٹائی اس کا وزن برداشت نہیں کر سکتی‘ یہ بھی پتہ چلا وفاقی دارالحکومت میں بھی آگ بجھانے کا مناسب بندوبست موجود نہیں‘

ہمارے دس ادارے مل کر بھی پانچ چھ منزلہ عمارت کو آگ سے نہیں بچا سکتے اور یہ بھی پتہ چلا عمارت کا گارڈ وقار بھی آگ سے بچنے کے عمل سے واقف نہیں تھا‘ اس کے پاس بھی ”فائرسیفٹی“ کے آلات موجود نہیں تھے اوریہ اسلام آباد کی صورت حال ہے‘ دنیا کی پہلی اسلامی جوہری طاقت کے وفاقی دارالحکومت کی صورت حال سے آپ باقی پاکستان کا خود اندازہ کر لیجئے۔یہ ملک اس وقت شاہدخاقان عباسی اور پروفیسر احسن اقبال کے اختیار میں ہے‘ یہ دونوں اگر اس عبوری دور میں زیادہ نہیں کر سکتے تو یہ کم از کم ملک کے دس بڑے شہروںکو آگ سے ضرور محفوظ بنا سکتے ہیں‘

یہ صرف تھوڑی سی توجہ دیں اور یہ فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ کو پرائمری تک سلیبس کا حصہ بنا دیں تو ملک میں ٹھیک ٹھاک تبدیلی آ جائے گی‘ ملک بدل جائے گا‘ ہمارے بچوں کو کم از کم فرسٹ ایڈ اور فائرفائٹنگ کا علم ضرور ہونا چاہیے‘ حکومت تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفتروں میں مہینے میں ایک بار فائر فائٹنگ کی ٹریننگ بھی لازمی قرار دے دے‘ اس دن فائربریگیڈ کا عملہ آئے اور سارے دفتر کو جمع کر کے تمام ملازمین کو آگ اور زلزلے سے بچنے کی ٹریننگ دے دے‘

ملک بھر کے تمام دفتروں‘ عمارتوں ‘ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگ بجھانے کے آلات بھی لازمی قرار دے دیئے جائیں‘ ملک کی تمام عمارتوں میں آلات اور سموک الارم ضرور لگیں اور ان کی ”ری فلنگ“ اور پڑتال بھی وقت پر ہو ‘ آپ ملک بھر کی تمام عمارتوں کےلئے ”ایمرجنسی گیٹ“ بھی لازمی قرار دے دیں‘ وہ تمام عمارتیں جن میں ایمرجنسی گیٹ نہیں ہیں وہ ناقابل استعمال ڈکلیئر کر دی جائیں اور مالکان جب تک ان میں ایمرجنسی گیٹ نہیں لگوا دیتے حکومت انہیں اس وقت تک ”سیل“ کر دے اور حکومت تمام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کےلئے بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے اور فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ لازمی قرار دے دے‘ یہ ٹریننگ چالیس گھنٹوں پر مشتمل ہونی چاہیے‘

ملازمین یہ چالیس گھنٹے سال بھر میں پورے کریں اور یہ لوگ جب تک ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ جمع نہ کرا دیں‘ ادارہ اس وقت تک ان کی پروموشن روک دے‘ یہ قانون کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی لاگو کر دیا جائے‘ طالب علم جب تک سر ٹیفکیٹ جمع نہ کرائیں‘ یہ بھی اگلی جماعت میں پروموٹ نہ ہوں‘ پاکستان میں اس وقت 148سرکاری اور غیرسرکاری یونیورسٹیاں ہیں‘ ہمارے ملک میں12انجینئرنگ یونیورسٹیاں بھی ہیں‘ حکومت ان یونیورسٹیوں کو اچھا اور کارآمد فائر فائیٹنگ سسٹم بنانے کا ٹاسک بھی دے سکتی ہے‘

یونیورسٹیاں سسٹم بنائیں‘ حکومت سسٹم کی پڑتال کرے‘حکومت ان میں سے شاندار‘ مفید اور سستا سسٹم منتخب کرے‘نظام بنانے والے طالب علموں اور پروفیسروں کو انعام دے اور یہ نظام پورے ملک میں نافذ کر دیا جائے‘ حکومت اس سسٹم کی رائیلٹی طے کر کے سسٹم بنانے والوںکو ہر سال نقد رقم بھی فراہم کرتی رہے یوں طالب علموں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی‘ یونیورسٹیاں بھی مفید کام کریں گی‘ بزنس بھی چلے گا اور پروفیسروں اور طالب علموں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

ہم لوگ اگر آج کے دور میں اپنی عمارتوں کو آگ سے نہیں بچا سکتے‘ ہم اگر آج 21 ویں صدی میں اپنے لوگوں کو ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کا طریقہ نہیں سکھا سکتے‘ ہم اگر وفاقی دارالحکومت میں بھی جدید ترین فائر بریگیڈ اور آگ بجھانے کے ٹرینڈ ورکرز کا بندوبست نہیں کر سکتے اور اگر ہمارے ملک کی 148یونیورسٹیاں مل کر بھی آگ بجھانے کا کوئی مناسب سسٹم نہیں بنا سکتیں تو پھر ہمیں ملک کو دیوالیہ قرار دے دینا چاہیے‘ ہمیںعوام سے معافی مانگ کر پوری قوم کو نااہل قرار دے دینا چاہیے‘

خدا کی پناہ آپ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن سے لے کر عوامی مرکز تک ملک میں آتش زدگی کی ہر واردات کاڈیٹا نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو ہر واقعے‘ ہر سانحے میں لوگ عمارتوں سے کود کر مرتے دکھائی دیں گے‘ آپ ملک میں آتش زدگی کا کوئی واقعہ اٹھا کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو کسی واقعے میںفائربریگیڈ وقت پر پہنچتا اور عمارت کو مکمل محفوظ کرتا نہیں ملے گا‘ ہمارے ملک میں جہاں بھی آگ لگی وہ عمارت اس کے بعد قابل استعمال نہیں رہی اور یہ انتہائی قابل افسوس ہے‘

انگریز کے دور میں ہر بڑی سرکاری عمارت میں پانی کا تالاب ہوتا تھا‘ یہ تالاب عمارت کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا تھا اور آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ کا کام بھی کرتا تھا لیکن ہم نے اپنے ڈیزائن سے یہ بھی اڑا دیا‘انگریز کے دور کی ہر عمارت میں ایمرجنسی گیٹ ہوتا تھا‘ ہم نے یہ روایت بھی ختم کر دی اور انگریز نے آج سے ڈیڑھ سو سال قبل سکول کے طالب علموں کو آگ بجھانے اور فرسٹ ایڈ کی تعلیم دینا شروع کی تھی‘ ہم نے یہ ٹریننگ بھی بند کر دی‘

ہم معلوم نہیں کیا کرنا چاہتے ہیں‘ میری حکومت سے درخواست ہے آپ ملک کو آگ بجھانے کی اچھی روایات دے دیں‘ یہ ملک خودبخود ترقی کر لے گا‘ علی رضا اور عمراعجاز جیسے نوجوان اب مزید کھڑکیوں سے لٹکنا افورڈ نہیں کر سکتے‘ حد کی حد کو بھی گزرے ہوئے بڑا عرصہ ہوچکا ہے‘ اب نااہلی اور بے حسی کا یہ بازار بند ہو جانا چاہیے‘ حکومت کو اب وہ کام شروع کر دینے چاہئیں جن کےلئے حکومت کو حکومت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ملک کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا جائے تا کہ ہم سب ایک ہی بار علی رضا کی طرح دنیا سے رخصت ہو جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں