انسان خسارے میں ہے

  اتوار‬‮ 18 جون‬‮ 2017  |  0:01

میں نے عرض کیا ”خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے‘ قدرتی آفتیں اور بیماریاںانسان کے دو بڑے مسئلے ہیں‘ سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے‘ اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا“ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے‘ وہ نرم آواز میں بولے ”مثلاً سائنس نے کیا کر دیاہے“ میں نے عرض کیا ”سر زلزلے  آتش فشاں‘ آندھیاں‘ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں

ہیں‘ سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا لیا ہے‘ سائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتاہے‘ ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشن گوئی کر سکیںگے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا ‘اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے‘ یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی“ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے‘ میں نے عرض کیا ”زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی ‘یہ زمین کے اندر موجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہوگی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت ‘ اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے ‘ ماہرین اس علاقے کے لوگوں کوبروقت مطلع کردیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے ‘ یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ‘ ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لئے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے “ خواجہ صاحب بڑی

توجہ سے میری بات سنتے رہے ‘ میں نے عرض کیا ”بیماریاں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں‘ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں ‘ ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے ‘ سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لئے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس

دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے‘اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے‘ ان جینز کو صحت مند جینز کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سے پہلے ہی صحت مند ہو جائے گا ‘انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے‘

اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنم لینا شروع کر دے گا“ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا ‘ میں نے عرض کیا ”اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں‘ طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لئے ہیں‘ ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دئیے جائیں تو یہ آفتیںپیدا نہیں ہونگیں‘ سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیں جو ان ہواﺅں‘ ان پانیوں اور ان موجوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیں گے جو اکٹھی ہوکر آندھی‘ سیلاب اور طوفان بنتی ہیں چنانچہ اگلے بارہ برسوں میں انسان ان تینوں آفتوں پر بھی قابو پا لے گا لہٰذا خواجہ صاحب آنے والا وقت انسان کے لئے بڑا آئیڈیل ہوگا ‘

دنیا میں انسان کے لئے کوئی چیلنج نہیں ہو گا ‘لوگ مطمئن‘ آرام دہ اور سکھی زندگی گزاریں گے“ ۔خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور مجھے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ کر بولے ”تم بڑے بے وقوف ہو‘ یہ قدرتی آفتیں اتنی بڑی دشمن نہیں ہیں جتنا بڑا انسان‘انسان کا دشمن ہے۔ آج تک انسان نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پچھلے دس ہزار سال میں قدرتی آفتیں مل کر نہیں پہنچا سکیں‘ تم یہ دیکھ لو 8 اکتوبر کے زلزلے میں جتنے لوگ مارے گئے تھے اس سے پانچ گنا زیادہ لوگ ہماری سڑکوں پر پچھلے ساٹھ برسوں میں حادثوں میں مارے گئے ہیں‘

ہر سال ہمسایوں کے ہاتھوں جتنے ہمسائے قتل ہوتے ہیں‘جتنے بیٹے اپنے باپ قتل کرتے ہیں‘ آشناﺅں کے ہاتھوں جتنے خاوند مارے جاتے ہیں‘ جتنے خاوند اپنی بیویوںکو قتل کرتے ہیں‘ ڈاکوﺅں کے ہاتھوں جتنے راہگیر مارے جاتے ہیں اور جتنے دوست ہر سال دوستوں کو قتل کرتے ہیں‘ یہ ساری ہلاکتیں قدرتی آفتوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں‘ بش جیسے لوگ اپنی انا کی تسکین کے لئے جتنے لوگ مار دیتے ہیں‘ دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنے لوگ مارے جاتے ہیں‘

کشمیر‘ فلسطین‘ افغانستان ‘ سری لنکا ‘عراق اور چیچنیا میں انسانوں کے ہاتھوں جتنے انسان مارے جاتے ہیں ‘ گورے کے ہاتھوںجتنے کالے مارے جاتے ہیں اور سرخ رو انسان جتنے پیلے انسانوں کو قتل کرتے ہیں یہ تعداد قدرتی آفتوں کا لقمہ بننے والے انسانوں سے کہیں زیادہ ہے ‘ ناگاساگی پر بم کس نے پھینکا تھا ‘ایک انسان نے‘ اس کا نشانہ کون بنے دوسرے انسان‘ دوسری اور پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی ‘ ایک انسان نے‘ اس جنگ کا لقمہ کون بنے‘ دوسرے انسان‘ کوریا کی جنگ کس نے چھیڑی تھی ‘

ویتنام پر حملہ کس نے کیا تھا‘ روس افغانستان جنگ کس نے شروع کی تھی‘ افغانستان اور عراق پر حملہ کس نے کیاتھا؟ انسان نے اور ان جنگوں سے کس کو نقصان پہنچا ‘ انسان کو؟ بارہ اکتوبر کا واقعہ کس کا کمال تھا؟ انسان کا اور اس کا نقصان کس کو پہنچا؟ انسان کو؟ اس دنیا میں بھائی کے ہاتھوں بھائی اور دوست کے ہاتھوں دوست مارا جاتا ہے لہٰذا انسان کا سیلابوں‘ طوفانوں اور بیماریوں سے مقابلہ نہیں انسان کا انسان سے مقابلہ ہے اور جب تک انسان کی شرست میں تبدیلی نہیں آتی یہ دنیا دارامن نہیں بن سکتی‘اس زمین پر تخریب کا عمل جاری رہے گا“ ۔میں خواجہ صاحب کی بات غور سے سنتا رہا‘

انہوںنے فرمایا ”انسان ‘ انسان سے خائف ہے ‘ وہ جب بھی ذرا سا خوشحال ہوتا ہے ‘ اسے جب بھی ذرا سا اقتدار یا اختیار ملتا ہے ‘ وہ جب بھی ذرا سی کامیابی پاتا ہے تو وہ دوسرے انسان کو تکلیف دینا شروع کر دیتا ہے ‘ وہ آم کھا کر گٹھلیاں ہمسائے کے گھر پھینک دے گا ‘ وہ دو لاکھ کا کتا خریدے گا اور یہ کتا دوسرے کے دروازے پر باندھ دے گا ‘ وہ ایٹم بم بنا کر چاہے گا ساری دنیا اس کے قدموں میں جھک جائے‘ وہ بادشاہ کا مصاحب بن کر چاہے گا سب لوگ اسے سلام کریں ‘

سب لوگ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں‘اب دوسری طرف بھی انسان ہوتا ہے‘ اس کے اندر بھی وہی خون ‘ وہی انا اور وہی ہٹ دھرمی ہوتی ہے لہٰذا انسان انسان کے ساتھ ٹکرا جاتا ہے اورآخر میں دونوں فنا ہو جاتے ہیں‘ انسان کی انسان کے ساتھ جنگ میںپورس بھی مارا جاتا ہے اور سکندر بھی ‘ دونوں خسارے میں رہتے ہیں‘ یہ اس زمین کا قانون ہے لہٰذا انسان جب تک مقدونیہ‘ سمرقند اور واشنگٹن کے اقتدار تک محدود نہیں رہتا‘ وہ جب تک دوسرے انسان پر حکمرانی کی خواہش ختم نہیں کرتا ‘

وہ جب تک دوسرے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ بند نہیں کرتا اس وقت تک انسان کے ہاتھوں انسان مارا جاتا رہے گا‘ اس وقت تک اس زمین پر امن نہیں ہوگا“ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ‘انہوں نے فرمایا ”سائنس دانوں کو قدرتی آفتوں کی بجائے انسانی شرست کا کوئی علاج دریافت کرنا چاہئے ‘ انہیں کوئی ایسی دوا ایجاد کرنی چاہئے جسے کھانے کے بعد صدر بش اور صدام حسین کی انا پر سکون ہو جائے اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرانا بند کر دیں‘ جسے کھانے سے صدر پرویز مشرف اور نواز شریف کے اختلافات ختم ہو جائیں اور دونوں خود کو کمزور اور چند سانسوں کے مہمان انسان سمجھ لیں ‘

جسے کھانے سے طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کو تسلیم کرلیں ‘جسے کھانے سے ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی آزادی اور زندہ رہنے کا حق مان لیں ‘جسے کھانے سے انسان انسان کو معاف کر دے اور جسے کھانے سے انسان انسان سے ٹکرانا بند کر دے“ ۔میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ‘ انہوں نے فرمایا ”یقین کرو ایک جنگل میں دو شیر سکون اور آرام سے رہ سکتے ہیں لیکن ایک چھت کے نیچے دو انسان لڑے ‘ٹکرائے اور مرے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ‘ شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا عصر کی قسم انسان خسارے میں ہے“۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔