یہ آسان نہیں ہوگا

  جمعرات‬‮ 8 جون‬‮ 2017  |  0:01

ہمیں چند اور حقائق بھی جاننا ہوں گے۔ہم نے جس دن ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ 1971ء کے سانحے کی تحقیق کی ہم اس دن یہ جان لیں گے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر نہیں تھی‘ جنرل یحییٰ خان اقتدار سیاستدانوں کو سونپنا نہیں چاہتے تھے اور سیاستدان فوجی قیادت پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھے‘ شیخ مجیب الرحمن نے ”ہمیں جنرل یحییٰ خان سے نجات کیلئے شیطان کی مدد بھی لینا پڑی تو ہم لیں گے“ جیسے

نعرے لگانا شروع کر دیئے جبکہ ملک کے دوسرے بڑے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ میں شکار کھیلنے لگے اور یوں ملک کا سارا بوجھ فوج کے کندھوں پر آ گیا اور یہ بھی حقیقت ہے فوج خواہ سکندر اعظم کی ہو یا تیمور لنگ کی یہ پوری سلطنت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی‘ قوم فوج کی ڈھال ہوتی ہے اور فوج قوم کی تلوار‘ یہ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں اور یہ دونوں لازم و ملزوم 1971ء میں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں تھے چنانچہ ہم بری طرح مار کھا گئے‘ جنرل یحییٰ خان نے افراتفری میں ذوالفقار علی بھٹو کو سلامتی کونسل بھجوا دیا‘ بھٹو صاحب نے وہاں عین اس وقت جذباتی تقریر کھڑکا دی جب پولینڈ نے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی‘بھٹو صاحب نے قرار داد کی کاپی پھاڑی اور ”ہم ہزار سال تک جنگ لڑیں گے“ کا نعرہ لگا کر ایوان سے باہر آگئے‘ اس جذباتی تقریر نے پاکستان کے مقدر کافیصلہ کر دیا‘ ہم نے آدھا ملک بھی گنوا دیا اور اپنے قومی وقار‘ قومی اعتماد پر زخم بھی لگوا لئے‘ مشرقی پاکستان عظیم سانحہ تھا لیکن اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم نے اس سانحے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا‘ ہم اس کے بعد بھی ایک پیج پر نہیں آئے‘ ملک میں اس کے بعد بھی سول اور ملٹری تقسیم جاری رہی اور شاید یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں‘ہماری غلطیاں ہمیں آج اس مقام پر لے آئی ہیں جہاں آگے کنواں اور پیچھے کھائی

ہے‘ ہم اگر اب بھی اپنی پالیسیاں جاری رکھتے ہیں تو ہم کنوئیں میں جا گریں گے اور ہم اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو کھائی ہمارا مقدر ہو گی‘ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج 46 سال بعد بھی سول ملٹری ”ڈیوائڈ“ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے‘ سیاسی قیادت فوجی قیادت

پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں اور فوج سیاسی قیادت کو قیادت ماننے کیلئے رضا مند نہیں اور اس کشمکش کا نقصان ملک اٹھا رہا ہے‘یہ تقسیم صرف وزیراعظم ختم کر سکتے ہیں‘ یہ آرمی چیف کو بلائیں‘ یہ دونوں دو دن اکٹھے رہیں‘

مستقبل کا پلان بنائیں اور ماضی کو ماضی بنا کر مستقبل میں نیا سفر شروع کردیں‘ ملک بچ جائے گا۔ہمیں یہ حقیقت بھی ماننا ہوگی یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا‘ ہم دنیا کے خوفناک ترین خطے میں آباد ہیں‘ دنیا میں سات ایٹمی طاقتیں ہیں‘ ان میں سے چار اس خطے میں ہیں اور یہ چاروں ایک دوسرے سے ناراض ہیں‘ روس اور چین کے درمیان 65 سال سے تنازعہ چل رہا ہے‘ بھارت اور چین ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور پاکستان اور بھارت یہ دونوں بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں چنانچہ فوج ہماری مجبوری ہے‘

ہم فوج کے بغیر یا چھوٹی فوج کے ساتھ ہمسایوں کا دباؤ برداشت نہیں کر سکیں گے‘ یہ فوج جس دن ختم ہو گئی پاکستان کو اس دن روس‘ بھارت اور چین آپس میں تقسیم کر لیں گے‘ یہ پہلی سچائی ہے اور فوج نے ملک کی مختلف اکائیوں کو آپس میں باندھ رکھا ہے‘ یہ دوسری بڑی سچائی ہے‘ فوج کی رسی جس دن نہیں رہے گی ہم اس دن مختلف قومیتوں‘ نسلوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے‘ یہ ملک اس دن یوگو سلاویہ بن جائے گا‘ فوج ملک کا واحد ٹرینڈ ادارہ بھی ہے‘

قوم ہر مشکل وقت میں فوج کی طرف دیکھتی ہے‘ ہم فوج کے بغیر سیلاب سے نمٹ سکتے ہیں اور نہ مردم شماری کر سکتے ہیں‘ ہم فوج کے بغیر بچوں کو ویکسین تک نہیں پلا سکتے چنانچہ یہ ملک فوج کے بغیر نہیں بچ سکے گا‘ جمہوریت دوسری بڑی حقیقت ہے‘ ہم نے 60 برسوں میں چار مارشل لاء لگا کر دیکھ لئے ملک کے ہر مارشل لاء کا اختتام پہلے سے بڑے بحران پر ہوا اور قوم بالآخر جمہوریت پر اعتماد کرنے پر مجبور ہوئی‘ یہ حقیقت ثابت کرتی ہے ہم جمہوریت کے بغیر اس ملک کو نہیں چلا سکیں گے‘

جنرل باجوہ کو دو ماہ میں جوڈیشل پلس ملٹری ایمرجنسی لگانے کے بے شمار مواقع ملیں گے لیکن سوال یہ ہے کیا مستقبل کے ملٹری رولرز جنرل ایوب خان‘ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف سے زیادہ توانا‘ ذہین اور سمجھ دار ہوں گے‘ کیا یہ وہ سارے مسئلے حل کر لیں گے جو ماضی کے فوجی حکمران دس دس سال کے ان مطلق العنان ادوار میں نہیں کر سکے جن میں امریکا نے ان کا پورا ساتھ دیا تھا لہٰذا اگر وہ لوگ ملک کی سمت درست نہیں کر سکے تو مستقبل کے باوردی حکمران کیا کر لیں گے؟

مجھے خطرہ ہے اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو نواز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ ایک ایسی نئی اور غلط ٹویٹ ثابت ہوگا جسے بعد ازاں واپس لینا پڑ جائے گا چنانچہ بہتر یہی ہے بچانے اور چلانے والے اکٹھے ہو جائیں‘ یہ ملک کو مل کر چلانا شروع کر دیں اور یہ کام بھی وزیراعظم کر سکتے ہیں‘ یہ مہینے میں ایک بار جی ایچ کیو جانا شروع کر دیں‘ یہ کور کمانڈرز کی میٹنگ میں بھی جایا کریں اور یہ فوجی قیادت کے اعتراضات بھی سنا کریں‘ یہ ملک اور ملک کے دونوں ستونوں کیلئے بہتر ہوگا۔ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ملک میں قیادت کا شدید بحران ہے‘ میاں نواز شریف ملک کے واحد تجربہ کار لیڈر ہیں‘

یہ 35 سال سے فیصلہ ساز پوزیشنوں پر کام کر رہے ہیں‘ یہ جس وقت پنجاب کے وزیر خزانہ بنے تھے اس وقت سی ایس ایس کرنے والے آج وفاقی سیکرٹری اور اس زمانے کے کیپٹن آج جرنیل ہیں‘ یہ ملک کے تین بار وزیراعظم رہے اور یہ ہر قسم کا گرم اور سرد چکھ چکے ہیں‘ آپ اگر انہیں فارغ کر دیتے ہیں تو متبادل کہاں سے لائیں گے؟ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں ریاست کے پاس ایک متبادل ہوتا تھا‘ آپ بے نظیر بھٹو کو نکال کر نواز شریف کو لے آتے تھے اور نواز شریف کو فارغ کر کے بے نظیر بھٹو کو اقتدار کے تخت پر بٹھا دیتے تھے‘ سسٹم چلتا رہتا تھا‘

بے نظیر بھٹو بدقسمتی سے دنیا میں موجود نہیں ہیں‘ عمران خان کو حکومتی امور سیکھنے میں وقت لگے گا‘ یہ چار برسوں میں ایک چھوٹا سا صوبہ نہیں سنبھال سکے‘ یہ پورا ملک کیسے سنبھالیں گے؟ یہ ٹیم کہاں سے لائیں گے اوراگر ٹیم مل بھی گئی تو کیا اس کے پاس وزراتیں چلانے کا تجربہ ہو گا؟ حکومتی امور چلانے کیلئے تجربہ چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف اس معاملے میں کوری ہے چنانچہ نواز شریف کے بعد کیا ہو گا؟ کیا ملک ایک بار پھر آصف علی زرداری اور چودھری پرویز الٰہی کے حوالے کرنا پڑے گا‘

اگر ہاں تو یہ لوگ کون سا ایسا کمال کر لیں گے جو یہ 2008 ء سے 2013ء اور2002ء سے 2007ء تک نہیں کر سکے‘ میاں نواز شریف میں ہزار خرابیاں ہوں گی لیکن ان میں دو ایسی خوبیاں ہیں جو اس وقت ملک کی دوسری قیادت میں نہیں ہیں‘ یہ تجربہ کار ہیں اور یہ اس بار ڈیلیور بھی کر رہے ہیں‘ ہمیں ماننا ہو گا ملک میں دہشت گردی نوے فیصد کم ہو گئی ہے‘ حکومت بجلی بھی پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘ 2017ء کے آخر تک لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی اور یہ لوگ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے پورے خطے کی صورتحال بھی بدل رہے ہیں‘ یہ تینوں کارنامے چھوٹے نہیں ہیں‘

ہم میاں نواز شریف کو فارغ کرنے کے بعد تجربات کے ایک نئے فیز میں داخل ہو جائیں گے‘ یہ ملک کیلئے بہتر نہیں ہو گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا میاں نواز شریف اس بار آسانی سے نہیں جائیں گے‘ یہ نہال ہاشمی کی طرح اپنے سینیٹرز‘ ایم این ایز اور ایم پی ایز کی لائین لگا دیں گے اوریہ لوگ نہال ہاشمی جیسی تقریریں کرتے جائیں گے‘ عدالت کتنے لوگوں کی گستاخیوں کا نوٹس لے لے گی‘ ملک میں کتنے مقدمے چلیں گے اور کتنے لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا؟ میاں نواز شریف کی پارٹی کو بھی توڑنا اس بار آسان نہیں ہو گا‘

پارٹی ماضی کی نصف درجن ٹوٹ پھوٹ سے یہ جان چکی ہے ملک کے ہر مارشل لاء کا اختتام جمہوریت پر ہوتا ہے اور آخر میں ٹکٹ کیلئے اختر رسول کی طرح سرعام ناچنا پڑتا ہے‘ ہمایوں اختر کی طرح معافی مانگنا پڑتی ہے اور فیصل صالح حیات کی طرح ”جئے بھٹو“ کے نعرے لگانا پڑتے ہیں چنانچہ یہ لوگ اس بار نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے‘ مجھے خطرہ ہے میاں نواز شریف کو اس بار ہٹانا آسان نہیں ہوگا اور اگر یہ فیصلہ ہو بھی گیا تو شاید ایک بڑے بحران کے بعد یہ فیصلہ واپس لینا پڑ جائے۔مجھے یوں محسوس ہوتا ہے میاں نواز شریف اپنی زندگی کے اس مشکل ترین دور سے بھی نکل جائیں گے‘

یہ بدنام بہت ہوں گے‘ یہ اخلاقی لحاظ سے دباؤ میں بھی آئیں گے لیکن انہیں نکالا نہیں جا سکے گا‘ یہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ سسٹم میں رہیں گے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ ملک کیلئے کچھ کریں گے بھی؟ یہ سوال ہمیں بہرحال وقت پر چھوڑنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔