سعودی عرب کو بڑا جھٹکا،ترکی کے ہزاروں فوجیوں کی قطر کی سرزمین پر تعیناتی،خفیہ معاہدہ طے پاگیا،سنسنی خیز انکشافات

  ہفتہ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2019  |  21:45
ماسکو(این این آئی) روسی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اسپٹنک نے اپنی ایک رپورٹ میں ترکی اور قطر کے درمیان متنازع عسکری سمجھوتے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔مذکورہ روسی ایجنسی نے سویڈن کی ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا کہ اس خفیہ معاہدے کے تحت ترکی اپنے ہزاروں فوجیوں کو قطر کی سرزمین پر تعینات کرے گا۔ کسی بھی ترک فوجی کی جانب سے قانون کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے خلاف قطر میں عدالتی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گیاور اس سلسلے میں صرف ترکی کی عدلیہ معاملے کو دیکھنے کی مجاز ہو گی۔سویڈن ویب سائٹ کا صدر دفتر دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے خفیہ عسکری معاہدے کی کاپی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ معاہدہ 16 صفحات پر مشتمل ہے اور اس پر دونوں ملکوں کے حکام کے دستخط اور مہریں موجود ہیں۔معاہدے کی رْو سے فریقین کے درمیان کسی بھی تنازع یا اختلاف کی صورت میں کسی بھی تیسرے فریق (کسی ملک یا کسی بین الاقوامی تنظیم) سے رجوع کرنے کا حق نہیں ہو گا۔رپورٹ کے مطابق معاہدے کے آرٹیکل 5 کے پیرا 3 میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کی جانب سے نقصان اور املاک کی تباہی کی صورت میں دونوں فریقین کو ہرجانے کے مطالبے کا حق ہو گا۔ علاوہ ازیں کسی طرح کے جانی نقصان مثلا زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی صورت میں زر تلافی کا بھی دعوی کیا جا سکے گا۔ تاہم عبارت میں زرتلافی اور ہرجانے کو متفقہ استثنائی حالتوں پر غور کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔معاہدے کے آرٹیکل 5 میں قطر کی اراضی پر تعینات ہونے والے ترک فوجیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قطر میں رہتے ہوئے وہاں کے مذہبی نظریات اور اقدار، قوانین، کسٹم کے ضوابط اور معاشرے کی عادات اور رواج کا احترام کریں تاہم ساتھ ہی ان امور میں سے کسی چیز کی خلاف ورزی کی صورت میں ترک فوجیوں کو پوچھ گچھ اور تحقیقات سے مامونیت فراہم کی گئی ہے۔ قطری حکام قوانین یا مذہبی نظریات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ترک فوجی کو گرفتار نہیں کر سکیں گے اور اس کے خلاف قطر میں عدالتی کارروائی کی بھی ممانعت ہو گی۔

موضوعات:

loading...