دمشق کے ہرنوجوان کی تاحیات اسدی فوج میں شمولیت کی لازمی کیوں؟

  جمعہ‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2018  |  13:30

دمشق(این این آئی)شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اسد رجیم کے ایک نئے طریقہ واردات کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ دارالحکومت دمشق اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بسنے والے مردوں کی اسدی فوج میں تا حیات بھرتی لازمی قرار دی گئی ۔عرب ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان نے بتایاکہ فوج میں بھرتی نہ ہونے والے نوجوان گھروں میں بند رہنے پر مجبور ہیں۔ شامی فوج نے سڑکوں پر چلنے والے بڑی تعداد میں نوجوانوں اور مردوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کرنا

شروع کررکھا ہے۔ایک مقامی صحافی نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ بتایا کہ دمشق کے قلب میں 20 سے 40سال کے درمیان کی عمر کے افراد کے گھومنے پھرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کھلے عام صرف وہی گھوم سکتا ہے جو فوج میں بھرتی ہوگیا ہو اور اگرکوئی شخص فوج میں بھرتی نہیں ہوا تو سے کسی بھی وقت اسدی فوج اٹھا کر لے جائے گی۔ اگر وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو اس کے پاس اسدی فوج میں بھرتی ہونے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔صحافی نے بتایا کہ اس کے کئی قریبی رشتہ داروں کوان کی مرضی کے خلاف حراست میں لینے کے بعد فوج میں بھرتی کردیاگیا۔ کئی افراد کو گھر سے کام کاج اور محنت مزدوری کے لیے جاتے ہوئے چوکیوں سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں فوج میں شامل کردیا گیا۔ یہی حالات دمشق کے اطراف کے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں