صنعاء ایک بڑے قید خانے میں تبدیل : عسکری پریڈیں اور جامعات پر دھاوا

  جمعہ‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2018  |  11:10

صنعاء(انٹرنیشنل ڈیسک)یمن کا دارالحکومت صنعاء حوثی ملیشیا کے سائے تلے ایک بڑے سے جیل خانے کا منظر پیش کر رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ بات یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق الاریانی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کریک ڈاؤن اور شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کی کارروائیوں کی سخت مذمّت کی۔جو چھ اکتوبر کو الجیاع کی انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ یمنی وزیر نے اپنی ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر صنعاء میں حوثی ملیشیا کی عسکری پریڈوں کی تصاویر پوسٹ

کیں۔الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا صنعاء کی سڑکوں پر روزانہ عسکری پریڈوں کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ صنعاء کی کلّیات اور گرلز ہاسٹل پر دھاوا اور جامعہ صنعاء کے طلبہ و طالبات اور سوشل میڈیا کارکنان کی گرفتاری ، ان سب کارستانیوں کا مقصد شہریوں کے اندر دہشت اور خوف پھیلانا اور انہیں بھوکا اور مفلس بنانے کی پالیسیوں کی لپیٹ میں لینا ہے۔ معمر الاریانی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء کو ایک بڑے قید خانے میں تبدیل کر دیا ۔ یمنی شہریوں کے سیاسی ، اقتصادی اور سماجی حقوق غصب کر لیے ہیں۔ لْوٹ مار سے شہریوں کے منہ کا نوالہ تک چھین لیا۔ حوثی باغیوں نے یمنیوں کو بد ترین کریک ڈاؤن اور دہشت گردی کا نشانہ بنا کر باور کرایا کہ وہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے کسی طور بھی مختلف نہیں ہے۔یمنی وزیر اطلاعات نے حوثی ملیشیا کی اِن دہشت گردانہ کارروائیوں پر عالمی برادری کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ،جنہوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور تمام انسانی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔معمر الاریانی نے سلامتی کونسل، یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور انسانی حقوق سے متعلقہ تمام بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ کارستانیوں کی بھرپور مذمت کریں۔ ساتھ ہی حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ اپنی جیلوں میں موجود ہزاروں قیدیوں کو رہا کرے۔ اس کے علاوہ الجیاع کی انقلابی تحریک میں شریک درجنوں مغوی مردوں اور عورتوں کے انجام سے آگاہ کرے اور انہیں جلد از جلد آزاد کرے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں