شام میں میں حالات انتہائی تشویشناک،33 لاکھ بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں،15لاکھ افراد معذور ہوگئے، عالمی ادارے کے لرزہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 14 مارچ‬‮ 2018  |  19:22

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے کہاہے کہ شام میں 2011ء کے بعد سے اسد رجیم کے خلاف جاری بغاوت کے دوران اب تک کم سے کم 15 لاکھ افراد معذور ہوچکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یونیسیف کے ڈائریکٹر برائیمشرق وسطیٰ و شمالی افریقا خیرت کالا باری کا کہنا تھا کہ شام میں سنہ 2011ء کے بعد اب تک سے زیادہ ہلاکتیں 2017ء میں ہوئیں۔ گذشتہ برس سنہ 2016ء کی نسبت بچوں کی ہلاکتوں میں 50 فی صد اضافہ ہوا۔ان کاکہنا تھا کہ شام میں اس وقت 33 لاکھبچوں کی زندگیوں کو خطرات لاھق ہیں۔ گذشتہ

سات سال سے جاری خانہ جنگ میں 15 لاکھ افراد معذور ہوچکے ہیں جب کہ 86 ہزار افراد اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے محروم کردیے گئے ہیں۔کالا باری نے شام میں پرتشدد کاررائیوں، بالخصوص بچوں پر تشدد کی روک تھام، اسپتالوں پر بمباری اور اسکولوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بند کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اورعالمی برادری شامی بچوں کی چیخوں کو سن رہی ہے مگر ان کے دفاع کے لیے موثر حکمت عملی وضع نہیں کی جا سکی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں