saudi-king

سعودی عرب کی پیشکش پر ایران کا حیرت انگیز جواب،تصدیق کردی گئی

  بدھ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2017  |  20:12
ریاض (این این آئی)سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حج انتظامات کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا،عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزارت حج کی طرف سے پورے عالم اسلام کو رواں سال حج کے انتظامات سے متعلق سفارشات بھجوائیں مگر ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حج انتظامات کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا۔ سعودی وزارت حج میں ایرانی حجاج کے امور کے انچارج ڈاکٹر طلال قطب نے کہا کہ ریاض حکومت کی جانب

(خبر جا ری ہے)

دوسرے ملکوں کے ساتھ ایران کو بھی نئے سال حج سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے، حجاج کی قیام گاہوں اور ان کی نقل وحرکت پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران نے وہ دعوت یکسر نظر انداز کردی۔ڈاکٹر طلال قطب کا کہناتھا کہ ایران کو سعودی وزارت خارجہ کے بجائے براہ راست وزارت حج وعمرہ کے توسط سے حج انتظامات پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران کی طرف سے ہٹ دھرمی اور لا پرواہی پر اصرار جاری رہا ہے۔ڈاکٹر قطب کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے حسب دستور تمام مسلمان ملکوں اور مسلمان اقلیت کے حامل ممالک کو ان کے مخصوص حالات کے مطابق حج انتظامات طے کرنے اور حج کے معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بات چیت کی دعوت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ کا بیان مضحکہ خیز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران کو سعودی عرب کی طرف سے حج کے امور پر کوئی دعوت نہیں ملی حالانکہ سعودی عرب نے 79 ملکوں کو حج کے امور پر دعوت نامے ارسال کیے، جس کے بعد رواں ماہ سے حج درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ رواں سالہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حجاج کرام کی تعداد میں اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔

ریاض (این این آئی)سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حج انتظامات کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا،عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزارت حج کی طرف سے پورے عالم اسلام کو رواں سال حج کے انتظامات سے متعلق سفارشات بھجوائیں مگر ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حج انتظامات کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا۔

سعودی وزارت حج میں ایرانی حجاج کے امور کے انچارج ڈاکٹر طلال قطب نے کہا کہ ریاض حکومت کی جانب سے دوسرے ملکوں کے ساتھ ایران کو بھی نئے سال حج سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے، حجاج کی قیام گاہوں اور ان کی نقل وحرکت پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران نے وہ دعوت یکسر نظر انداز کردی۔ڈاکٹر طلال قطب کا کہناتھا کہ ایران کو سعودی وزارت خارجہ کے بجائے براہ راست وزارت حج وعمرہ کے توسط سے حج انتظامات پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران کی طرف سے ہٹ دھرمی اور لا پرواہی پر اصرار جاری رہا ہے۔ڈاکٹر قطب کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے حسب دستور تمام مسلمان ملکوں اور مسلمان اقلیت کے حامل ممالک کو ان کے مخصوص حالات کے مطابق حج انتظامات طے کرنے اور حج کے معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بات چیت کی دعوت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ کا بیان مضحکہ خیز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران کو سعودی عرب کی طرف سے حج کے امور پر کوئی دعوت نہیں ملی حالانکہ سعودی عرب نے 79 ملکوں کو حج کے امور پر دعوت نامے ارسال کیے، جس کے بعد رواں ماہ سے حج درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ رواں سالہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حجاج کرام کی تعداد میں اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔