دنیا بھر میں15کروڑسے زائدمسلمان زیابطیس کے مرض میں مبتلا ہیں،طبی ماہرین

  ہفتہ‬‮ 7 اپریل‬‮ 2018  |  16:00

کراچی (این این آئی)دنیا بھر میں15کروڑسے زائدمسلمان زیابطیس کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن وہ اپنی بیماری کے باوجود رمضان کے مقدس مہینے میں روزے رکھنا چاہتے ہیں ، ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ ایسے مریضوں کی درست رہنمائی کریں تاکہ ایسے مریض محفوظ طریقے سے روزے رکھ سکیں ، سوئی کے زریعے خون نکال کر شوگر چیک کرنے اور انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے۔اگر کسی کی شوگر 70ملی گرام سے کم ہوجائے تو ایسے مریض پر روزہ توڑنا واجب ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنی زندگیوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ان خیالات کا اظہار ملکی


و غیر ملکی ماہرین امراض زیابطیس نے چوتھی عالمی رمضان اور زیابطیس کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے انٹرنیشنل ڈائیابٹیز فیڈریشن کے صدر نام ہان چُو، سائوتھ افریقی ڈاکٹر محمد عمر، متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹر محمد حسنین ، رمضان اسٹڈی گروپ کے پروفیسر یعقوب احمدانی ، ملائیشیا کے محفوزی محمد ، متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹر عبد الجبار ، سعوری عرب سے ڈاکٹر سعود السفری، ڈاکٹر خالد طیب ، مصری ڈاکٹر عادل السید، پروفیسر زمان شیخ اورپروفیسر اعجاز وہرہ سمیت درجنوں ماہرین نے کیا۔ رمضان اسٹڈی گروپ کے چیئرمین اور عالمی ماہر امراض زیابطیس پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ 95فیصد سے زائد زیابطیس کے مریض نہایت کامیابی اور محفوظ طریقے سے روزے کی عبادت ادا کر سکتے ہیں بشرط یہ ہے کہ وہ اپنے معالجین کے مشورے پر عمل کریں ،انہوں نے کہا کہ علما کے متفقہ فیصلے کے مطابق سوئی چبھوکر شوگر چیک کرنے اورانجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ زیابطیس کے مریض کو بوقت ضرورت ڈرپ بھی لگائی جا سکتی ہے اور اس سے بھی ان کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اگر کسی مریض کی شوگر 70ملی گرام سے کم ہوجائے تو ایسے مریض کو روزہ توڑ دینا دینا چاہیے تاکہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق نہ ہو سکے ، ایسے مریضوں پر روزے کا کفارہ لازم نہیں انہیں صرف بدلے کا روزہ رکھنا ہوگا، سائوتھ افریقی ماہر امراض زیابطیس ڈاکٹر محمد عمر نے بتایا کہ روزے کے روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ بے شمار جسمانی فوائد بھی ہیں ، جس کی سائنس نے بھی تصدیق کر دی ہے ۔روزہ وزن ، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں روزہ دار کی قوت مدافعت بڑھتی ہے ، اب تو غیر مسلم ڈاکٹرز بھی اپنے مریضوں کو بھوکا رہنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ان کی جسمانی صحت بہتر ہو سکے خاص طور پر شوگر کے مرض کو پر قابو پانے میںمعاون ثابت ہوتا ہے اگر اسے ڈاکٹروں سے مشورے کے ساتھ رکھا جائے ۔متحدہ عرب امارات کے ماہر امراض زیابطیس ڈاکٹر محمد حسنین نے بتایا کہ زیابطیس اور رمضان سفارشات تیار ہو چکی ہیں جو مسلمان زیابطیس کے مریضوں کو محفوظ طریقے سے روزہ رکھنے میں معاون ثابت ہوں گی ، ان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں سونے اور کھا نے کے اوقات کار میں تبدیلی کی وجہ سے مریضوں کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں لیکن اگر وہ اپنے معالجین کے مشورے سے دوائوں اور خوراک کو متوازن بنا لیں تو وہ محفوظ طریقے سے رمضان گزار سکتے ہیں ۔پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ زیابطیس کے مسلمان مریض بہتر مسلمان ہیں ، کیوں کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود عبادت کرنے پر اصرار کرتے ہیں، ڈاکٹروں کو چاہیے کہ ایسے مریضوں کی درست رہنمائی کریں ۔ پروفیسر اعجاز وہرہ نے کہا کہ رمضان اسٹڈی گروپ کو زیابطیس کے ساتھ ساتھ دل اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو بھی روزہ رکھنے کی مدد دینے والی سفارشات مرتب کرنی چاہئیں ۔قبل ازیں کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل ڈائیابٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر نام ہان چُو کاکہنا تھا کہ دنیا میں زیابطیس کے مریضوں کی تعداد 425ملین ہے جو آئندہ دس سال میں بڑھ کر 777ملین ہوجائے گی ، دنیا میں سالانہ 50لاکھ افرادزیابطیس کیو جہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جو کہ ملیریا ، ایڈز اور دیگر کئی متعدی بیماریوں سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے سج سے وابستہ ماہرین امراض زیابطیس مسلمانوں کو زیابطیس سے محفوظ رکھنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں ، دوسرے مذاہب کے ماہرین کو بھی اس طرح کی تحقیق کرنی چاہیے ، انہوں نے کہاکہ دنیا میں لوگ اپنے معاشرتی اور سماجی اقدار سے دور ہو رہے ہیں ، مذہب بھی ایک سماجی اور معاشرتی قدر ہے جس سے دوری زیابطیس کا سبب بن رہی ہے ۔انٹرنیشنل زیابطیس فیڈریشن کے اعزازی صدرپروفیسر عبد الصمد شیر نے کہاکہ پاکستان میں زیابطیس کے مریضوں کی تعداد 1994میں صرف 11فیصد تھی وہ 2017میں بڑھ کر 26فیصد سے زائد ہو چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں زیابطیس کے مرض کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ،پروفیسر عبد الباسط نے کہا کہ عالمی زیابطیس اور رمضان کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں روزہ داروں کو آگاہ کیا جائے کہ وہ روزہ رکھ کر اپنی شوگر کیسے کنٹرول کر سکتے ہیں ، کس طرح کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جن کی شوگر اگر ایک خاص حد سے نیچے چلی جاے تو انہیں اپنا روزہ توڑ دینا چاہیے۔

موضوعات:

loading...