پہلے اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو یہ بینرز پکڑا کر ایک تصویر ۔۔۔۔ خلیل الرحمن قمر نے مخالفین سے معافی مانگنے کیلئے شرط عائد کر دی

6  مارچ‬‮  2020

کراچی(این این آئی) ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ مجھ پر تنقید کرنے والے اپنی خواتین کو یہ بینر’’کھانا گرم کردوں گی‘بستر خودگرم کرلو‘‘’’میں آوارہ ‘میں بدچلن‘‘ تھما کر تصویر بنوائیں میں معافی مانگ لوں گا۔خلیل الرحمان قمر نے ٹوئٹر پر ماروی سرمد کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ پر معافی کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے دو تصاویر ٹویٹر پر شیئر کیں اور ساتھ ہی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ پر تنقید کرنے والے پہلے اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو یہ بینرز پکڑا کر ایک تصویر اپنے اکاؤنٹ سے عورت مارچ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ٹویٹس کریں۔ مجھ پر تنقید کرنے والے اپنی ماں بہن بیٹی کو یہ بینرز پکڑا کر ایک تصویر اپنے اکاؤنٹ سے #AuratAzadiMarch2020 ٹرینڈ میں ٹویٹس کردیں میں اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معافی مانگنے اور ان کی حمایت کرنے کو تیار ہوں‘ اگر یہ نہیں کر سکتے تو مجھ سے بغض پرے رکھ کر سوچو کیا میں ٹھیک نہیں؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ لوگ یہ کرتے ہیں تو میں اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے نہ صرف معافی بلکہ عورت مارچ کی حمایت کرنے کو تیار ہوں، اگر یہ نہیں کرسکتے تو مجھ سے بغض پرے رکھ کر سوچو کیا میں ٹھیک نہیں؟ چند فاحشہ غیرملکی غیر اسلامی ایجنڈے کے تحت مسلم خواتین کی تذلیل کا سبب بن رہی ہیں لیکن افسوس یہ کہ چند ایکٹریسز ان کی حمایت میں میرے خلاف اس لیے بول رہی ہیں کیونکہ میں انکو یہ کہہ کر رَد کرچکا تھا کہ میرے لکھے ڈرامے اور انکی شخصیت میں مماثلت نہیں ہیخلیل الرحمان قمر نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند خواتین غیر ملکی اور غیر اسلامی ایجنڈے کے تحت مسلم خواتین کی تذلیل کا سبب بن رہی ہیں لیکن افسوس کہ چند اداکارائیں ان کی حمایت میں میرے خلاف اس لیے بول رہی ہیں کیونکہ میں اْن کو یہ کہہ کر رَد کرچکا تھا کہ میرے لکھے ڈرامے اور ان کی شخصیت میں مماثلت نہیں، اس لیے میرا قلم میری مرضی کیوں نہیں؟’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کو سپورٹ کرنے والے اینکرز کی بہنوں کی تصویریں گوگل سے بھی نہیں ملتی اپنی بہنوں کو گھروں میں قید کیا ہے ان پر پابندیاں لگاتے ہیں دوسروں کی بہن بیٹیوں کو ورغلاتے ہیں‘یہ اپنی بہنوں کو آزادی کیوں نہیں دیتے؟مصنف و ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے چند اینکرز پرسن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کی حمایت کرنے والے اینکرز کی بہنوں کی تصویریں گوگل سے بھی نہیں ملتیں، اپنی بہنوں کو گھروں میں قید کیا ہے، ان پر پابندیاں لگاتے ہیں لیکن دوسروں کی بہن بیٹیوں کو ورغلاتے ہیں؟

موضوعات:



کالم



گوہر اعجاز سے سیکھیں


پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…