اب وقت آگیا ہے کہ ہم ملکریہ کام شروع کریں، روس نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

  بدھ‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2017  |  19:07

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)رشین فیڈریشن کے تجارتی نمائندے یورے کوزلو نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون میں بہتری آئی ہے لیکن یہ زیادہ مستحکم نہیں۔ دونوں ممالک کو معیشت کے مختلف شعبوں میں تعاون کی زیادہ سے زیادہ راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک ،سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔یورے کوزلو نے کہاکہ روس توانائی

کے شعبے،تعمیرات و صنعتی مشینری ، کان کنی، ریلویز انجینئرنگ،فارماسیوٹیکل مصنوعات، طبی آلات، ایل ای ڈی لائٹ سسٹم، فرٹیلائزر و کیمیکلز، واٹر مینجمنٹ، ایری گیشن کی سہولت ،خودکار ہوائی جہاز،ڈرونز وغذائی اشیا سمیت دیگر شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اگرچہ تجارتی وفود کے تبادلے میں بہتری آئی ہے لیکن تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر کو مشورہ دیا کہ رشین تاجروں کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اورتجارت کی راہیں تلاش کرنے کے لیے روس کے دورے کے لیے تجارتی وفد تشکیل دے۔انہوں نے کراچی چیمبر کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بینکنگ سہولت نہ ہونے سے تجارت میں رکاوٹ کو دور کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ براہ راست بینکنگ سہولت کا نہ ہونا واقعی ایک مسئلہ ہے جس پر دونوں جانب سے توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ روس پہلے ہی شمالی و جنوبی گیس پائپ لائنز کی تعمیر میں تعاون فراہم کررہاہے اور جام شورو پاور پلانٹ میں خدمات فراہم کررہاہے تاہم تعاون کے اس عمل کو معیشت کے دیگر شعبوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے 150روسی کمپنیوں کی تفصیلات مشتمل سی ڈی کے سی سی آئی کے صدر کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ تمام کمپنیاں پاکستان میں مواقع تلاش کرنے کی خواہش مند ہیں۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک نے روس کے تجارتی نمائندے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کے سی سی آئی روس کے ساتھ دوطرفہ باہمی تجارت کے فروغ اور نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ روس جیسے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ اور تعلقات میں بہتری سے پاکستان کو درپیش مختلف معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی جو دونوں ملکوں کے لیے فائدے مند ہے۔انہوں نے کہاکہ روس کی ڈبلیو ٹی او تک رسائی سے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے کافی مواقع میسر آئیں گے۔مفسر عطا ملک نے کہاکہ کئی ممالک چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں جو علاقائی اقتصادی انضمام کو بہتر بنانے کے علاوہ سرمایہ کاروں کو 10سالوں تک ٹیکس فری سہولت فراہم کرے گا لہٰذا روسی سرمایہ کاروں کو اس صورتحال سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے اس مقصد کے لیے سی پیک سے منسلک منصوبوں میں سرمایہ کاری یا مشترکہ شراکت داری کی جاسکتی ہے۔پاکستان بھی ٹیلی کمیونی کیشن، ایری گیشن، اٹامک انرجی، ٹرانسپورٹ اور انفرا اسٹرکچر و دیگر شعبوں میں روس سے تعاون حاصل کرسکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں